دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 395
395 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جو کہ آنحضرت کو گالیاں دیتے اور ان کی شان کے بارے میں گندے الفاظ استعمال کرتے تھے۔پہلے ایک اجلاس میں اٹارنی جنرل صاحب نے 13/ نومبر 1946ء کا ایک حوالہ پڑھ کر سنایا تھا کہ تقسیم ہند سے معا قبل حضرت خلیفة المسیح الثانی نے فرمایا تھا کہ تم ایک پارسی لے آؤ میں اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔اور اپنی طرف سے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی تھی کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمدی اپنے آپ کو خود مسلمانوں سے علیحدہ مذہب سے وابستہ سمجھتے ہیں اور اشارہ یہ کیا جا رہا تھا کہ بالخصوص تقسیم ہند سے قبل کے نازک دور میں جب ہندوستان کے مسلمان پاکستان کے لیے جد وجہد کر رہے تھے اس وقت احمدی اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ گروہ ظاہر کر رہے تھے۔اگرچہ جو عبارت پیش کی جا رہی تھی اس میں صرف یہ ذکر تھا کہ ملک میں احمدیوں کی تعداد پارسیوں سے زیادہ ہے اور اگر پارسیوں کی رائے لی جارہی ہے تو احمدیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" نے اس حوالہ کا سارا سیاق و سباق پڑھ کر سنایا۔یہ حوالہ 1946ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے سفر دہلی کے متعلق ہے۔اس سفر کا مقصد کیا اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ گروہ کے طور پر پیش کرنا تھا یا مسلم لیگ کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا تھا، اس کا اندازہ اس بیان کے ان حصوں سے بخوبی ہو جاتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا:۔”میں نے قادیان سے اپنے بعض نمائندے اس غرض کے لئے بھجوائے کہ وہ نواب چھتاری سے تفصیلی گفتگو کر لیں اور انہیں ہدایت کی کہ وہ لیگ کے نمائندوں سے بھی ملیں۔اور ان پر یہ امر واضح کر دیں کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ لیگ کے مقاصد کے خلاف کوئی کام کریں۔اگر یہ تحریک لیگ کے مخالف ہو تو ہمیں بتا دیا جائے۔ہم اس کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر مخالف نہ ہو تو ہم شروع کر دیں۔اس پر لیگ کے بعض نمائندوں نے تسلیم کیا کہ یہ تحریک ہمارے لئے مفید ہو گی۔بالکل باموقع ہو گی اور ہم یہ سمجھیں گے کہ اس ذریعہ سے ہماری مدد کی گئی ہے۔“