دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 349 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 349

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 349 کہ اس کتاب کے اسی صفحہ پر اس نام نہاد اعتراض کی مکمل تردید ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔" میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔" بیٹی بختیار صاحب کو حضور نے اس عبارت کا مطلب سمجھانا شروع کیا مگر وہ بار بار یہ اصرار کر رہے تھے کہ اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک مختلف نبی کی حیثیت سے وحی آئی ہے۔حالانکہ اگر مذکورہ عبارت مکمل پڑھی جائے تو یہ عبارت تو صاف صاف یہ اعلان کر رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود کو امتی نبی کا مقام آنحضرت صلی علم کی اقتداء کی برکت سے ملا تھا۔اور آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے۔مگر اٹارنی جنرل صاحب کو اپنے استدلال پر اتنا یقین تھا کہ وہ اپنی بات پر مصر تھے اور یہاں تک کہہ گئے The words are quite simple and plane یعنی یہ الفاظ تو بالکل واضح ہیں۔بات تو ٹھیک تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ تو بالکل واضح تھے لیکن اٹارنی جنرل صاحب اور انہیں سوالات مہیا کرنے والوں کا ذہن کج روی کا شکار تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام انبیاء میں آنحضرت صلی علیم کی وحی سب سے زیادہ کامل ہے اور انبیاء کی وحی ، عام لوگوں کے الہام و وحی سے ممتاز ہے اور جو وحی انسانوں کو ہو سکتی ہے وہ بہر حال شہد کی مکھی پر ہونے والی وحی سے افضل ہے لیکن یہ سب وحی ایک ہی خدا کی طرف سے ہے۔ان سب کا منبع ایک ہی ہے۔