دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 350 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 350

350 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ابھی یہ بحث کسی نتیجہ کے قریب نہیں پہنچی تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب نے موضوع تبدیل کیا اور یہ اعتراض پیش کیا کہ احمدیوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے۔حالانکہ احمدیوں نے تو ہمیشہ مظالم کا نشانہ بننے کے با وجود مسلمانوں کے مفادات کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔یہ اعتراض اس لئے بھی بے بنیاد تھا۔عالم اسلام میں بہت سے فرقوں نے بہت سے پہلوؤں سے اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھا ہے۔بلکہ بہت سے علماء نے دوسرے فرقوں کے متعلق یہ فتاویٰ دیئے تھے کہ ان کے ساتھ شادی بیاہ، مودت تو ایک طرف رہی عام معاشی تعلقات بھی حرام ہیں۔اٹارنی جنرل صاحب نے اس سلسلہ میں الفضل کے بہت سے حوالے بھی نوٹ کرائے۔حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا کہ یہ حوالے نوٹ کر لئے جائیں ان کو چیک کر کے جواب دیا جائے گا لیکن یہ بات حیران کن ہے ہے کہ یہ سوال جماعت احمدیہ سے کیوں کیا جا رہا تھا؟ اس اسمبلی کہ یہ میں کئی جماعتوں کے اراکین بزعم خود منصف بن کر بیٹھے تھے ، ان کی جماعتوں نے تاریخ کے بہت نازک ادوار میں اپنے آپ کو مسلمانوں کی اکثریت سے علیحدہ رکھا تھا۔جماعت اسلامی کی مثال لے لیں۔قیام پاکستان کے سلمانوں کی اکثریت مسلم لیگ کا ساتھ دے رہی تھی تو اس وقت جماعتِ اسلامی صرف وقت جب کو اور ان کے قائدین کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔یہ سوال اس جماعت سے کیوں نہیں کیا جا رہا تھا۔و / اگست کی کارروائی کے آخر میں ایک بار پھر مفتی محمود صاحب نے ” ذرية البغايا “ والے اعتراض میں جان پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہ سوال اُٹھایا کہ قرآنِ کریم میں یہ لفظ سوال اُٹھایا کہ قرآنِ کریم میں یہ لفظ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اس پر حضور نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ قرآنِ کریم میں تو ” ابن البغايا “ یا ” ذرية البغايا “ کا محاوره استعمال ہی نہیں ہوا لیکن مفتی محمود صاحب یہ نکتہ اُٹھا رہے تھے کہ قرآنِ کریم میں ”بغی“ کا لفظ تو استعمال ہوا ہے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ لفظ بد کاری معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اپنے نکتے کو ثابت کرنے کے لئے وہ سورۃ النور کی یہ آیت پیش کر رہے تھے