دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 348 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 348

348 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسی“ اور حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفے صلی علی کمر پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔“ (74) یہ حوالہ پڑھ کر بیچی بختیار صاحب نے حضور سے کہا:۔وو یہ آپ دیکھ لیجئے۔“ کہا:۔وو پڑھتے ہوئے آدمی سوچتا ہے کہ آخر اس پر وہ کیا اعتراض کریں گے۔انہوں نے یہ حوالہ دکھاتے ہی اب مرزا صاحب۔آپ اس پر ذرا کچھ روشنی ڈالیں کہ جب مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ایک نبی کی حیثیت سے بول رہے ہیں کہ مجھ پر جو وحی نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسٰی، حضرت علیلی“ اور حضرت محمد مصطفے صلی یہ تم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔یہ ان تینوں سے ایک علیحدہ نبی ہو کے اپنے کلام کا ذکر کر رہے ہیں۔“ یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ اس حوالہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ امتی نبی ہونے کا نہیں تھا اور نہ آپ کا دعوی یہ تھا کہ آپ نے جو کچھ پایا ہے وہ آنحضرت صلی علیم کے فیض سے پایا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حوالہ پر یہ اعتراض کسی طور سے نہیں اُٹھ سکتا یہاں صرف منبع وحی کا ذکر ہے۔اٹارنی جنرل صاحب کا مطلب کیا یہ تھا کہ امتی نبی کو یہ کہنا چاہئے کہ مجھ پر کسی اور خدا کی وحی اترتی ہے اور اس خدا کی وحی نہیں اترتی جس نے گزشتہ انبیاء سے کلام کیا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب کا یہ استنباط ان کے پاس دلائل کے فقدان کا ثبوت تو ہو سکتا ہے لیکن اسے کوئی سنجیدہ استنباط نہیں کہا جا سکتا۔سب سے بڑھ کر یہ