دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 327 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 327

327 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب وقفہ کے بعد رات کو آٹھ بجے دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو حضور نے اٹارنی جنرل صاحب کے ایک پیش کردہ حوالے کا پورا پس منظر پڑھ کر سنایا۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا تھا کہ حضرت خلیفة المسیح الثانی نے ایک ذمہ دار انگریز افسر کو پیغام بھجوایا تھا کہ تم دو پارسی پیش کرو میں اس کے مقابل پر چار احمدی پیش کروں گا اور یہ اعتراض کیا تھا کہ اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ مذہب سے وابستہ ظاہر کیا تھا۔اگر اس خطبہ جمعہ کو مکمل طور پر پڑھ لیا جاتا تو یہ سوال اٹھنے کی نوبت نہ آتی۔حضرت خلیفة المسیح الثانی نے فرمایا تھا:۔”میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ممکن ہے برطانوی حکومت اس غلطی میں مبتلا ہو کہ اگر مسلم لیگ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو مسلمان قوم بحیثیت مجموعی ہمارے خلاف نہیں ہوگی۔بلکہ ایسے مسلمان جو لیگ میں شامل نہیں اور ایسی جماعتیں جو لیگ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں، ان کو ملا کر وہ ایک منظم حکومت ہندوستان میں قائم کر سکے گی۔اس خیال کے آنے پر میں نے مزید سوچا اور فیصلہ کیا کہ ایسے لوگ جو لیگ میں شامل نہیں یا ایسے لوگ جنہیں تعصب کی وجہ سے لیگ والے اپنے اندر شامل کرنا پسند نہیں کرتے۔جیسے احمدی کہ ان کو تعصب کی وجہ سے لیگ میں شامل کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔ان دونوں قسم کے لوگوں کو چاہیے کہ آپس میں مل جائیں اور مل کر گورنمنٹ پر یہ واضح کر دیں کہ خواہ ہم لیگ میں نہیں۔لیکن اگر لیگ کے ساتھ حکومت کا ٹکراؤ ہوا۔تو ہم اس کو مسلمان قوم کے ساتھ ٹکراؤ سمجھیں گے اور جو جنگ ہو گی ، اس میں ہم بھی لیگ کے ساتھ شامل ہوں گے۔یہ سوچ کر میں نے چاہا کہ ایسے لوگ جو اثر رکھنے والے ہوں۔خواہ اپنی ذاتی حیثیت کی وجہ سے اور خواہ قومی حیثیت کی وجہ سے ان کو جمع کیا جائے۔دوسرے میں نے مناسب سمجھا کہ کانگرس پر بھی اس حقیقت کو واضح کر دیا جائے کہ وہ اس غلطی میں مبتلا نہ رہے کہ مسلمانوں کو پھاڑ پھاڑ کر وہ ہندوستان پر حکومت کر سکے گی۔اسی طرح نیشنلسٹ خیالات رکھنے والوں پر بھی یہ واضح کر دیا جائے کہ وہ کانگرس کے ایسے حصوں کو سنبھال کر