دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 328 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 328

328 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری رکھیں اور ان کے جوشوں کو دبائیں جن کا یہ خیال ہو کہ وہ مسلمانوں کو دبا کر یا ان کو آپس میں پھاڑ پھاڑ کر حکومت کر سکتے ہیں۔“ 66 " الفضل " 13 / نومبر 1946 ء کالم نمبر 1 تا3) یہ تھی پوری عبارت۔اب ملاحظہ کیجیے کہ کیا اس میں اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا ؟ کیا یہ کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں کو اور مسلم لیگ کو نقصان پہنچایا جائے ؟ حضرت خلیفة المسیح الثانی نے تو حکومت کو یہ اختباہ کیا تھا کہ اگر اس کی مسلم لیگ کے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم ہر حال میں مسلم لیگ کا ساتھ دیں گے اور یہ فرما رہے تھے کہ حکومت اور کانگرس یہ خیال ترک کر دیں کہ وہ مسلمانوں کو پھاڑ کر ان پر حکومت کر سکتے ہیں۔اگر اس سے کوئی شخص یہ نتیجہ نکال رہا ہے کہ اس خطبہ میں اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا جا رہا ہے تو پھر اس شخص کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے لیکن آفرین ہے اس قابل قومی اسمبلی پر اور قابل اٹارنی جنرل پر کہ اس حوالے کے پڑھے جانے کے بعد بھی وہ یہی نکتہ اُٹھاتے رہے کہ احمدی پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے اور کہا کہ آپ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھیں۔اگر چہ اس سلسلہ میں حضور نے اور بہت سے حوالے بھی انہیں سنائے۔ہٹ دھرمی ایک لا علاج مرض ہے۔اس کے بعد یحییٰ بختیار صاحب نے یہ تمہید بیان کی کہ آپ کے نزدیک آنحضرت صلی ایام کے بعد امتی نبی آ سکتا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے پھر دو سوال اُٹھائے۔ایک تو یہ کہ آپ کے نزدیک کیا حضرت مسیح موعود ہے اور دوسرا یہ کہ کیا پھر آپ کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ علیہ السلام کے علاوہ بھی کوئی نبی آ سکتا السلام آخری نبی ہوں گے ؟ پہلے سوال کے متعلق تو حضور کا اصولی جواب یہ تھا کہ اب وہ امتی نبی آ سکتا ہے