دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 326
326 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب اس کا جواب بھی نفی میں ملا تو پھر انہوں نے ایک راستہ نکالنے کی کوشش کی اور کہا:۔" تقریبا ان کو اکٹھا کیا گیا ہے۔" جب اس کی بھی تردید کر دی گئی تو پھر بیٹی بختیار صاحب نے اس تحریر کے مندرجات پر بحث اُٹھانے کی کوشش کی لیکن اس وضاحت کے بعد بھی دورانِ گفتگو وہ اس کے جملے کا حوالہ دیتے ہوئے وہ یہی کہتے رہے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے یہ لکھا ہے۔حالانکہ یہ خلاف واقعہ تھا۔اس کے بعد اس روز ایک بار پھر کلمۃ الفصل“ پر گفتگو ہوئی لیکن دوبارہ وہی مسئلہ سامنے آیا پہلے اٹارنی جنرل صاحب نے غلط صفحہ نمبر پڑھ دیا۔جب اس صفحہ پر متعلقہ عبارت نہیں ملی تو پھر انہوں نے دوسرا صفحہ نمبر بتایا۔جب صحیح عبارت سامنے آئی تو حضور نے نشاندہی فرمائی کہ یہاں پر نجات کا ذکر ہو رہا ہے اور ان الفاظ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر احمدی مسلمان ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔آخر میں اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ کیونکہ یہ کتاب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی یا خلفاء سلسلہ میں سے کسی کی نہیں اس لئے وہ اس پر بات نہیں کریں گے۔پہلے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ بحث بھی اُٹھانے کی کوشش کی تھی کہ تقسیم ہند کے وقت احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک فریق کے طور پر پیش کیا تھا اور ملیحدہ ایک فریق کے طور پر پیش کیا تھا اور یہ ظاہر کیا تھا کہ وہ مسلمانوں سے مذہبی طور پر علیحدہ ہیں اور اس طرح مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد کو نقصان پہنچایا تھا۔حضور نے الفضل کا ایک حوالہ پڑھ کر سنایا۔اٹارنی جنرل صاحب یا تو غلط حوالہ پیش کرتے یا نا مکمل عبارت پڑھ کر یا تبدیل شدہ عبارت پڑھ کر ایک تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔لیکن جب پورا اقتباس پڑھا جاتا تو یہ اثر ویسے ہی زائل ہو جاتا۔اور اس مرتبہ بھی یہی ہوا۔