دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 114
114 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پاکستان کی قومی اسمبلی پر مشتمل ایک سپیشل کمیٹی قائم ہوتی ہے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب اس بات کا اظہار کر چکے تھے کہ جب قومی اسمبلی بجٹ کے معاملات سے فارغ ہو گی، قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تا کہ اس دیرینہ مسئلہ کا کوئی حل نکالا جائے۔30 / جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں بجٹ کی کارروائی ختم ہوئی ، اس موقع پر وزیر اعظم بھی ایوان میں موجود تھے۔اس مرحلہ پر اپوزیشن کے ممبران نے ایک قرار داد پیش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیرو کاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اس پر وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب نے کہا کہ حکومت اصولی طور پر اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔وزیر قانون نے تجویز دی کہ کارروائی کو دو گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا جائے تاکہ حکومت اپوزیشن کے مشورہ کے ساتھ کوئی قرارداد تیار کر سکے یہ تجویز منظور کر لی گئی۔ان دو گھنٹوں میں سپیکر کے کمرہ میں ایک میٹنگ ہوئی۔جس میں وزیر قانون پیر زادہ صاحب، سیکریٹری قانون محمد افضل چیمہ صاحب، پنجاب کے وزیر اعلیٰ حنیف رامے صاحب اور اپوزیشن کے ممبران میں سے مفتی محمود صاحب، شیر باز مزاری ،صاحب، شاہ احمد نورانی صاحب، غلام فاروق صاحب اور سردار شوکت حیات صاحب نے شرکت کی۔اپوزیشن کے ممبران نے یہ واضح کیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنی قرارداد کو ایوان میں پیش کریں گے۔اس وقفہ میں مشورہ کے بعد ایوان کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔اس میں وزیر قانون نے قرار داد پیش کی کہ ایک سپیشل کمیٹی قائم کی جائے جو ایوان کے تمام اراکین پر مشتمل ہو۔اور سپیکر اسمبلی اس کے چیئر مین کے فرائض ادا کریں۔اس کمیٹی کے سپر دمندرجہ ذیل تین کام ہوں گے۔1) اسلام میں اس شخص کی کیا حیثیت ہے جو حضرت محمد کو آخری نبی نہ مانتا ہوں۔2۔ایک مقررہ وقت میں ممبران کمیٹی سے قرار دادیں اور تجاویز وصول کرنا اور ان پر غور کرنا۔3۔غور کرنے ، گواہوں کا بیان سننے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد اس مسئلہ کے متعلق تجاویز مرتب کرنا۔اس کے ساتھ وزیر قانون نے کہا کہ اس کمیٹی کی کارروائی بند کمرہ میں (In Camera) ہو گی۔