دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 113
113 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تھی کہ جھکڑی لگائی گئی تو وہ بازو سے نکل گئی۔اس پر پولیس والے نے صرف بازو سے پکڑ کر گرفتار کرنے پر اکتفا کیا۔البتہ اتنی مہربانی کی کہ اس بچے کو اپنے بھائیوں سمیت جیل میں اس احاطے میں رکھا گیا جہاں پر ربوہ سے گرفتار ہونے والے اسیر ان کو رکھا گیا تھا۔اس احاطے میں سات کو شھریاں تھیں۔اسیر ان کو شام چار بجے کو ٹھریوں میں بند کر دیا جاتا اور صبح چار بجے وہاں سے نکال دیا جاتا۔ان کا وقت یا تو دعاؤں میں گزرتا یا پھر دل بہلانے کو کوئی کھیل کھیلنے لگ جاتے۔مغرب عشاء کے وقت جب ہر کو ٹھری سے اذان دی جاتی تو جیل کی فضاء اذانوں سے گونج اُٹھتی۔جیل میں کھانا اتنا ہی غیر معیاری دیا جاتا جتنا پاکستان کی جیلوں میں دیا جاتا ہے۔صبح کے وقت گڑ اور چنے ملتے اور شام کو بد مزہ دال روٹی ملتی۔گرمی کے دن تھے اور جیل میں پنکھا تک موجود نہیں تھا البتہ حضرت خلیفۃ المسح الثالث نے وہاں پر پنکھے لگانے کا انتظام فرما دیا تھا۔اسی افراد کے لئے ایک لیٹرین تھی جس کی دن میں صرف ایک مرتبہ صفائی ہوتی تھی۔اور اگر کو ٹھریوں میں جانے کے بعد بارہ گھنٹے کے دوران کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی تو اسے لیٹرین میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہوتی تھی اور اس کے لیے نا قابل بیان صورت پیدا ہو جاتی تھی۔جب یہ گیارہ سالہ بچہ اپنے رشتہ داروں سمیت رہا ہوا تو اس کے والد ملک ولی محمد صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے ساتھ ملاقات کرنے گئے مگر اس بچے کو اپنے ساتھ نہ لے کر گئے حضور نے اس بچے کے بارہ میں دریافت کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اس بچے کو بھی ملاقات کے لئے لاؤ۔جب یہ بچہ حضور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو حضور نے گلے لگا کر پیار کیا اور پرائیویٹ سیکریٹری کو ارشاد فرمایا کہ ان کی تصویریں بنانے کا انتظام کیا جائے۔یہ بچہ اب تک تاریخ احمدیت کا سب سے کم عمر اسیر ہے۔یہ اسیر مبشر احمد خالد صاحب مربی سلسلہ ہیں۔