دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 115 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 115

115 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ایوان نے متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کر لی۔اس کے بعد اپوزیشن کے 22 اراکین کے دستخطوں کے ساتھ ایک قرار داد پیش کی گئی۔ایوان میں اس قرار داد کو شاہ احمد نورانی صاحب نے پیش کیا اس پر مختلف پارٹیوں کے اراکین کے دستخط تھے۔اس قرار داد کے الفاظ تہذیب سے کلیۂ عاری تھے۔اس قرار داد کے الفاظ تھے ”چونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت محمد کے بعد جو اللہ کے آخری نبی ہیں نبوت کا دعویٰ کیا۔اور چونکہ اس کا جھوٹا دعویٰ نبوت، قرآنِ کریم کی بعض آیات میں تحریف کی سازش اور جہاد کو ساقط کر دینے کی کوشش، اسلام کے مسلمات سے بغاوت کے مترادف ہے۔اور چونکہ وہ سامراج کی پیداوار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔چونکہ پوری امتِ مسلمہ کا اس بات پر کامل اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیرو کار خواہ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہوں یا اسے کسی اور شکل میں اپنامذ ہبی پیشوایا مصلح مانتے ہوں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔چونکہ اس کے پیروکار خواہ انہیں کسی نام سے پکارا جاتا ہو۔وہ دھوکا دہی سے مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ بن کر اور اس طرح ان سے گھل مل کر اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔چونکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو 6 تا 10 / اپریل مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام منعقد ہوئی ، جس میں دنیا بھر کی 140 مسلم تنظیموں اور انجمنوں نے شرکت کی اس میں کامل اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کر دیا گیا کہ قادیانیت جس کے پیروکار دھوکا دہی سے اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ کہتے ہیں۔دراصل اس فرقہ کا مقصد اسلام اور مسلم دنیا کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرنا ہے اس لئے اب یہ اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار خواہ انہیں کسی نام سے پکارا جاتا ہو مسلمان نہیں ہیں اور یہ کہ اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو دستور میں ضروری ترامیم کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا سکے اور یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے ان کے جائز حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔“