دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 92
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 92 وحشیانہ مظالم کئے جارہے تھے۔ان پر ارتداد کے لیے دباؤ ڈالا جارہا تھا لیکن حکومت اگر کچھ کر رہی تھی تو احمدیوں کو ہی گرفتار کر رہی تھی تا کہ ان کی قوت مدافعت دم توڑ دے۔اس روز بھی مفسدین پر گرفت کرنے کی بجائے گوجر انوالہ میں ان بارہ خدام کو گر فتار کر لیا گیا جو اپنی مسجد کی حفاظت کے لیے ڈیوٹی دے رہے تھے اور کیمبلپور میں احمدیوں کو پولیس نے حکم دیا کہ وہ اپنے گھروں تک محد ودر ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے 30 / مئی کو پنجاب اسمبلی میں یہ اعلان کیا کہ ربوہ کے واقعہ کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائیں گی اور انہوں نے اسمبلی کو مطلع کیا کہ ربوہ سے اکہتر افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور جرم ثابت ہونے پر سخت سزا دی جائے گی۔(11)