دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 91
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 91 تھی۔اس وقت جو رپورٹیں آرہی ہیں اگر وہ درست ہیں تو ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حکومت وقت نہ تدبر سے کام لے رہی ہے نہ انصاف سے کام لے رہی ہے۔۔۔۔۔۔میں حقیقت بیان کرنے کے لیے یہ کہتا ہوں ورنہ میرا یہ کام نہیں تھا کہ میں یہ بتاؤں کہ ان کو کیا کرنا چاہئے۔جو سیاستدان ہیں ان کو اپنا مفاد خود سمجھنا چاہئے۔اگر نہیں سمجھیں گے تو دنیا میں حکومتیں آتی بھی ہیں جاتی بھی ہیں۔میری اس سے کوئی غرض نہیں میں تو مذہبی آدمی ہوں۔نصیحت کر نامیر اکام ہے ان کو بھی ایک رنگ میں نصیحت کر دی ، سمجھنا نہ سمجھنا ان کا کام ہے لیکن اصل چیز میں آپ کے سامنے اول یہ لانا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے بھی غلطی کی، غلطی کی ہے اور ہمیں اس چیز کو تسلیم کرنا چاہئے۔دوسرے یہ کہ صرف انہوں نے غلطی نہیں کی بلکہ انہوں نے اپنی نا سمجھی کے نتیجہ میں دشمن کے ایک سوچے سمجھے منصوبہ میں شمولیت کی اور جماعت کے لیے بھی پریشانی کے سامان پیدا کرنے کے موجب بنے اور ملک کے لیے بھی کمزوری کا سامان پیدا کرنے کے موجب بنے۔میں سمجھتا ہوں اور میں انہیں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کم از کم دس ہزار مرتبہ استغفار کریں اور توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی مانگیں۔جو بھی اس معاملہ میں شامل ہوئے ہیں۔مجھے ان کا علم نہیں لیکن جو بھی شامل ہوئے ہیں وہ کم از کم دس ہزار مرتبہ استغفار کریں اور خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھکیں اور اپنی بھلائی کے لئے اور خود کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچانے کے لئے دس ہزار مرتبہ اس سے معافی مانگیں اور اس کے حضور عاجزانہ جھکے رہیں جب تک اللہ تعالیٰ انہیں معاف نہ کر دے۔“ (خطبات ناصر جلد 5 ص534 تا536) 31/ مئی کو بھی حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے کوئی خاص قدم نہیں اُٹھایا۔خاص طور پر صوبہ پنجاب میں مولوی لوگوں کو احمدیوں پر ، ان کے گھروں ، ان کی مساجد اور ان کی دوکانوں پر حملے کرنے کے لیے اکسا رہے تھے۔جن مقامات کا ذکر آچکا ہے ان میں تو فسادات جاری تھے۔ان کے علاوہ اس روز ماموں کانجن ، کمالیہ، بھیرہ، دنیا پور، عارفوالہ ، بہاولنگر، خانپور ضلع رحیم یار خان، سانگرہ، سانگلہ ہل، حافظ آباد، مرید کے، گوجر انوالہ ، منڈی بہاؤالدین، مری، کیمبل پور اور مظفر آباد بھی فسادات کی لپیٹ میں آگئے۔اسی روز ان فسادات نے پنجاب کی حدود سے نکل کر دوسرے صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔چنانچہ صوبہ سندھ میں سکھر میں اور سرحد میں پشاور میں بھی فسادات شروع ہو گئے۔احمدیوں پر ہر طرح کے