دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 64
64 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یہاں یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے اس قرارداد پر پاکستان کے ایک فیڈرل سیکریٹری نے دستخط کئے تھے جب کہ ابھی ملک میں احمدیوں کے خلاف فسادات کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک فیڈرل سیکریٹری حکومت کی رضامندی کے بغیر ایسی قرار داد پر دستخط کر دے تو ان کا جواب تھا کہ ہاں یہ گورنمنٹ سے پوچھے بغیر نہیں ہو سکتا۔جب ان سے پھر یہ سوال کیا گیا کہ اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ یہ پلان فسادات کے شروع ہونے سے پہلے ہی بن چکا تھا کہ احمدیوں کو پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا جائے۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔پلان بن نہیں چکا تھا۔بس جس حد تک ہوا، اُس حد تک ہوا۔اب اس کی جو Execution ہے۔That is a "_different matter لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ایک فیڈرل سیکریٹری ایسی قرار داد پر ملک سے باہر جاکر دستخط کر آتا ہے کہ جس پر عمل کے نتیجہ میں ملک کی آبادی کے ایک حصہ کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا عمل شروع ہو جانا تھا، لازمی بات ہے کہ ملک کی کابینہ کو کم از کم اس بات کا نوٹس تو لینا چاہئے تھا۔جب ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے یہ سوال پو چھا گیا کہ کیا کابینہ میں اس قرار داد پر کوئی بات ہوئی تھی ؟ تو ان کا جواب تھا کہ نہیں کابینہ میں اس پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ میں سعودی حکومت کی سرپرستی میں کام کرتی ہے اور اس کو مالی وسائل بھی سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے مہیا کئے جاتے ہیں۔اور جب کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کے ایک وفاقی سیکریٹری نے صرف اس بات کی مخالفت کی کہ احمدیوں کی ملازمتوں پر پابندی لگانا مناسب نہ ہو گا تو سعودی عرب کے مندوب ڈاکٹر مجاہد الصواف نے بر ملا کہا کہ سعودی عرب میں تو علماء کے فتوے کی بنا پر شاہی فرمان جاری ہو چکا ہے کہ قادیانیوں کو سعودی عرب میں ملازمتیں نہ دی جائیں۔اور ساری الزام تراشیوں کا مرکز یہ تھا کہ قادیانیوں کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا اور استعمال کیا اور دوسرابڑا الزام یہ لگایا جا رہا تھا کہ قادیانی جہاد (یعنی جہاد قتال ) کے قائل نہیں ہیں۔اس پس منظر میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ جن فرمانرواؤں کی طرف سے یہ الزامات لگائے جارہے تھے ، تاریخ کیا بتاتی ہے کہ ان کے تاج برطانیہ کے ساتھ کیسے تعلقات رہے اور انہوں نے گزشتہ ایک صدی میں کس کس سے جہاد اور قتال کیا۔اس کے لیے ہمیں نوے برس پہلے کی تاریخ کا مختصر سا جائزہ لینا پڑے گا۔