دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 591
591 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری بھٹو صاحب کا کسی سے لاکھ اختلاف ہو لیکن اس وقت کا یہ قدم سوائے بیہودگی کے اور کچھ نہیں تھا اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔اس سے صرف حکم جاری کرنے والوں کی پہنچ ذہنیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔جب ریاست اور حکومت اس بحث میں الجھ جائے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں تو اس کا انجام اس قسم کی نامعقول اور قابل نفرت حرکات پر ہی ہوتا ہے کہ ایک مردہ آدمی کی نعش کو برہنہ کر کے یہ دیکھا جائے کہ اس کے ختنے ہوئے تھے کہ نہیں۔گویا اس کے مسلمان ہونے کی ایک ہی دلیل رہ گئی کہ اس کے ختنے ہوئے تھے کہ نہیں۔بھٹو صاحب نے اپنی وصیت لکھی لیکن پھر اُسے جلا دیا اور کہا کہ وہ اپنے خیالات کو مجتمع نہیں کر پا رہے۔جب پھانسی کا وقت آیا تو وہ کئی روز کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے اور اس مرحلہ کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکے تھے۔ان کا رنگ زرد ہو چکا تھا۔وہ اس قابل نہیں تھے کہ خود چل کر پھانسی کی جگہ تک جا سکیں۔انہیں پہلے اُٹھایا گیا اور پھر سٹریچر پر لٹایا گیا وہ پھانسی گھاٹ تک بالکل بغیر حرکت کے رہے۔پھانسی دینے والے تارا مسیح نے ان کے چہرے پر ماسک چڑھا دیا اور ان کے ہاتھ پشت پر باندھ دیئے گئے۔اس کی تکلیف کی وجہ سے ان کے منہ سے صرف یہ نکلا کہ ”یہ مجھے “۔رات کے دو بج کر چار منٹ پر لیور دبا دیا گیا اور ان کا جسم ایک مجھے“۔جھٹکے کے ساتھ پھانسی کے کنویں میں گر پڑا۔پاکستان میں اور مسلمان ممالک میں بہت سے سیاستدان سیاست کے میدان میں سرگرم ہیں۔بہت مرتبہ انہیں اس قسم کے سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ مذہبی جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کریں یا پھر احمدیوں کے خلاف تحریک کا حصہ بن کر ان پر ظلم کا دروازہ کھول کر ملا سے تعاون کریں تو اس سے ان کو بہت سیاسی فائدہ ہو گا۔اور کم از کم مُلّا طبقہ تو ان کا حامی ہو جائے گا۔اگر مذہبی اخلاقی پہلو کو ایک طرف بھی رکھا جائے اور سیاسی حقائق پر توجہ مرکوز رکھی جائے تو کم از کم ان سیاستدانوں اور حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ بھٹو صاحب کے حالات کا بغور مطالعہ کریں۔خود ان حقائق کا جائزہ لیں۔بھٹو صاحب کوئی معمولی سیاستدان نہیں تھے۔وہ بہت ذہین آدمی تھے۔طویل سیاسی تجربہ رکھتے تھے۔ان کی مثبت خدمات سے بھی انکار نہیں۔وہ ملک میں مقبول ترین لیڈروں میں سے تھے۔اس بات سے بھی انکار نہیں کہ آج جب کہ ان