دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 590 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 590

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 590 ایک اہم کارنامہ خیال کرتے تھے۔اور اسی طرح عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب اس سٹیرنگ کمیٹی کے چیئر مین تھے جس نے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے متعلق قواعد طے کئے تھے۔جب بھٹو صاحب کی اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھی تو ضیاء حکومت نے ان کے خلاف ایک قرطاس ابیض (White Paper) شائع کیا تو انہوں نے جیل سے اس کے جواب میں ایک کتار Assassinated تحریر کی۔اس میں انہوں نے 1974ء میں یحییٰ بختیار صاحب کی کارکردگی کے متعلق لکھا:۔If I am As Attorney General of Pakistan he rendered yeoman service to successfully piloting the sensitive Ahmadi issue in Parliament یعنی انہوں نے ( یحییٰ بختیار صاحب نے بحیثیت اٹارنی جنرل نے پارلیمنٹ میں احمدیوں کے حساس مسئلہ کے بارے میں کارروائی کے دوران اہم اور کامیاب خدمات سرانجام دیں۔خدا کی قدرت کے کچھ عرصہ بعد بھٹو صاحب انہی بیٹی بختیار صاحب کو اپنی پھانسی کی سزا کا ذمہ دار بتا رہے تھے اور کہہ رہے تھے انہوں نے اس مقدمہ کا ستیاناس کر دیا۔جیل کے عملہ نے پھانسی کی تیاریاں شروع کیں۔زائد حفاظتی اقدامات کے علاوہ ایک زائد یہ بھی تیاری کی جا رہی تھی کہ انٹیلی جینس ایجنسیوں کے ایک فوٹو گرافر کا انتظام کیا گیا۔اس کا کام کیا تھا اس کے متعلق وہاں ڈیوٹی پر متعین کرنل رفیع صاحب لکھتے ہیں کہ یہ فیصلہ کیا گیا:۔ایک فوٹو گرافر جو ایک انٹیلی جنس ایجنسی سے تھا ، اپنے سامان کے ساتھ تین اپریل شام پانچ بجے جیل میں رپورٹ کرے گا۔وہ بھٹو صاحب کی لاش کے فوٹو لے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کے ختنے ہوئے تھے یا نہیں؟)(مجھے سرکاری طور پر بتایا گیا تھا کہ مسٹر بھٹو کی ماں ہندو عورت تھی جو ان کے والد نے زبردستی اپنا لی تھی اور مسٹر بھٹو کا پیدائشی نام نتھارام تھا اور غالبا ان کے ختنے نہیں کرائے گئے تھے پھانسی اور غسل کے بعد اس فوٹو گرافر نے بھٹو صاحب کے جسم کے درمیانی حصہ کے نزدیکی فوٹو لئے تھے۔پڑھنے والوں کے لئے میں بتا دوں کہ بھٹو صاحب کا اسلامی طریقہ سے باقاعدہ ختنہ ہوا تھا۔“(25)