دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 56
56 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یہ پر اپیگینڈ اکچھ اس انداز سے کیا جارہا تھا کہ خلفاء راشدین کی عظمت کا بھی کچھ دھیان نہیں کیا جارہا تھا۔اسی جریدے نے شاہ فیصل اور دیگر سر بر اہانِ مملکت کی لاہور آمد کی منظر کشی پر جو رپورٹ شائع کی اس میں کچھ اس طر ز میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے کہ اس رپورٹ کی ایک سرخی یہ تھی ابو بکر، عمر، عثمان اور علی اسی طرح سیکیورٹی کا انتظام کر لیتے تو آج تاریخ یقینا مختلف ہوتی۔“ اور اس کے ساتھ شاہ فیصل کی تصویر شائع کی ہوئی تھی اور نیچے یہ سرخی تھی۔66 شاہ فیصل کے آتے ہی ساری فضا احترام کے سانچے میں ڈھل گئی “ گویا یہ کہا جارہا تھا کہ جس عمدہ طریق پر بھٹو صاحب اور ان کی ٹیم نے سیکیورٹی کا انتظام کیا ہے نعوذ باللہ ایسے عمدہ طریق پر انتظامات کرنے کی توفیق تو خلفاء راشدین کو بھی نہیں ہوئی تھی۔لیکن جس طرح چند سال بعد بھٹو صاحب کا تختہ الٹا گیا اس سے اس کی حقیقت خوب ظاہر ہو جاتی ہے اور اسی رپورٹ میں چٹان نے لکھا کہ جب شاہ فیصل ایئر پورٹ پر اترے تو ان کی آمد نے ایئر پورٹ کی فضا کو ایک عجیب تقدس دے دیا تھا۔اور ان کی چال میں ایک وقار اور تمکنت تھی اور چہرے پر نور کا ایک ہالہ بھی تھا۔اس مدح سرائی کا مقصد کیا تھا اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان اس کا نفرنس کا سپانسر تو تھا ہی کیونکہ یہ کانفرنس پاکستان میں ہی ہو رہی تھی لیکن اس کے ساتھ سعودی بادشاہ شاہ فیصل بھی اس کا نفرنس ( چٹان 11 / مارچ 1974ء ص 15و16) کے Co-sponsor تھے۔کا نفرنس شروع ہوئی تو تمام خدشات درست ثابت ہوئے۔بھٹو صاحب نے ہدایت دی کہ جب بیرونی ممالک کے سر بر اہان اور مندوبین آئیں تو ان کے ساتھ کسی احمدی فوجی افسر کی ڈیوٹی نہ لگائی جائے۔لیکن راز زیادہ دیر تک راز نہ رہ سکا۔افریقہ سے آئے ہوئے ایک وزیر اعظم کو جب جماعت کے خلاف دستاویزات دی گئیں تو انہوں نے یہ پلندہ اپنے ایک احمدی دوست کو تھمادیا۔یہ دستاویزات کیا تھیں جماعت احمدیہ کے خلاف جھوٹے الزامات اور زہر افشانیوں کا ایک طومار تھا۔اس میں جماعت اور خلیفہ وقت کے خلاف جی بھر کے زہر اگلا گیا تھا۔(A Man of God, by Ian Adamson ,George Shepherd Publishers, Great Britain P۔96-100)