دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 57
57 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مخالفین اس موقع کو جماعت احمدیہ کی مخالفت کی آگ بھڑ کانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ شور مچارہے تھے کہ حکومت کو چاہئے کہ ایسا انتظام کرے کہ قادیانی اس کا نفرنس پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔بلکہ اس بات پر شور بھی مچا رہے تھے کہ یہ کیا ظلم ہوا کہ ایک قادیانی فرم کو اس کا نفرنس کی میزبانی کا ٹھیکہ دے دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس بات کا بھی اظہار کیا کہ یہ بات رب العالمین کے حضور معتوب ہونے کی نشانی ہے۔اس فرم سے مراد ان کی شیز ان کی کمپنی تھی۔(المنبر یکم فروری 1974ء ص 6) بہر حال سر براہی کا نفرنس شروع ہوئی اور اس کا اختتام ہوا۔پس پردہ اس میں کیا کیا کچھ ہوا تھا۔اس کا اندازہ بعد میں منظر عام پر آنے والے واقعات سے بخوبی ہو جاتا ہے۔لیکن اس کا نفرنس کے دوران اور بعد میں بھی بہت سے جرائد جس قسم کا پراپیگنڈ ا کرتے دکھائی دیئے اس کا اندازہ ان چند مثالوں سے ہو جاتا ہے۔رسالہ المنبر نے شاہ فیصل کی مدح سرائی کرتے ہوئے لکھا۔”سعودی عرب کے فرمانروا۔خادم الحرمین شاہ فیصل ہیں۔موقع تفصیل کا نہیں، فیصل معظم کی صحرائی زندگی، اس دور میں اپنے عظیم المرتبت مجاہد فی سبیل اللہ ، توحید الہی میں قابلِ رشک مقام پر فائز اور دینی بصیرت میں ممتاز شخصیت،سلطان عبد العزیز رحمتہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ کی تربیت اور جہاد اور اس کے تقاضوں کی تکمیل سے لے کر شاہ فیصل کے لقب سے ملقب ہونے اور اس کے بعد۔۔۔۔۔۔اس عظیم فرمانروا نے خداداد بصیرت دینی حمیت، سیاسی دانش، اسلامی اخوت اور ایثار اور قربانی کے جو نقوش عہد حاضر میں ثبت فرمائے ہیں اور ان سے ان کی شخصیت کا جو نکھار اپنوں و بیگانوں نے مشاہدہ کیا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ یورپ اور پورا مغرب اس عظیم المرتبت قائد کے تیوروں سے سجا ہو اہے اور عالم اسلام ان کی شخصیت پر اظہار فخر ومباہات کر رہا ہے۔“ اور اس کے ساتھ ہی اس جریدو نے یہ بھی لکھا کہ حکومت کو یہ انتظام کرنا چاہئے کہ قادیانیوں کا سایہ بھی اس کا نفرنس پر نہ پڑے۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ خود جماعت احمدیہ کے مخالفین اس موقع کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔یہ ہمیشہ سے اس گروہ کا طریق رہا ہے کہ جب خود کوئی حرکت کرنی ہو تو یہ شور مچا دیتے ہیں کہ قادیانی یہ سازش کر رہے ہیں۔(المنبر یکم تا 8 / فروری 1974ء)