دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 55
55 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اگلا جارہا تھا۔مثلار سالہ چٹان میں کا نفرنس کے بعد یہ اطلاع شائع ہوئی کہ شاہ فیصل نے افریقہ میں تبلیغ اسلام کے لئے خزانوں کے منہ کھول دیئے ہیں اور ان کی کاوشوں کے نتیجے میں عیسائی مشنری اور قادیانی مراکز میں شگاف پڑنے لگے ہیں۔اور یہ بھی لکھا گیا کہ افریقہ کے صحراؤں میں توحید کی جو صدائیں گونج رہی ہیں اور اس ظلمت کدے میں قرآن وسنت کی جو روشنی پھیل رہی ہے اس کا سہر اور اصل شاہ فیصل کے سر پر ہے۔اور اگر شاہ فیصل کی کوششوں کی یہی رفتار رہی تو آئندہ دس سال میں افریقہ اسلام کا گہوارہ بن جائے گا۔اور اس ساری مدح سرائی کا ماحصل یہ تھا کہ اس کے آخر میں لکھا گیا یوگینڈا کے مردِ آہن عیدی امین مبارکباد کے مستحق ہیں۔جو لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی ملکوں کی سربراہ کا نفرنس میں یہ تجویز پیش کرنے والے ہیں کہ شاہ فیصل کو عالم اسلام کا لیڈر تسلیم کیا جائے۔ہمیں امید ہے کہ تمام مسلم راہنما اس تجویز کی حمایت کریں گے اور شاہ فیصل کو متفقہ طور پر اسلامی دنیا کا راہنما تسلیم کر کے اتحاد اسلامی کی داغ بیل ڈالیں گے۔ہم اس موقع پر پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کی خدمت میں یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ تمام فرقوں کے مشتمل ایک وفد تشکیل دیں جو اسلامی کا نفرنس کے موقعہ پر مسلم سربراہوں خصوصا شاہ فیصل، معمر القذافی اور عیدی امین سے ملاقات کر کے قادیانیوں کے بارے میں یادداشت پیش کریں۔اور انہیں بتائیں کہ قادیانیت اسلام اور مسلمانوں کے لئے صیہونیت سے کم خطرناک نہیں ہے۔اور اس کے سدِ باب کے لئے تمام اسلامی ملکوں کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا علماء چاہئے۔“ غانا سے موصول ہونے والی اس تحریر کے نیچے چٹان کے مدیر نے لکھا:۔دو اسلامی کانفرنس کے بعد خط ملا، لیکن شاہ فیصل کو عالم اسلام کا لیڈر بنانے کی تحریک سے چٹان متفق ہے بلکہ بہت پہلے سے اس کا داعی ہے۔“ چٹان 4 / مارچ 1974ء ص 14 و15) نہ صرف یہ بلکہ ایسے اشتہارات جرائد میں شائع کروائے جارہے تھے جن میں شاہ فیصل کو قائد ملت اسلامیہ کا خطاب دیا گیا تھا۔( چٹان 25 / فروری 1974ء)