دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 575 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 575

575 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری فوج نے ملک میں مارشل لا لگا دیا۔یہ مارشل لاء فوج کے چیف آف سٹاف جنرل ضیاء الحق صاحب کے حکم پر لگایا گیا تھا۔یہ وہی جنرل ضیاء الحق صاحب تھے جنہیں کئی ایسے جرنیلوں کی موجودگی میں جو ان سے سینیئر تھے بھٹو صاحب نے چیف آف سٹاف مقرر کیا تھا۔یہ وہی جنرل ضیاء الحق صاحب تھے جنہوں نے اس وقت جب بھٹو صاحب کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک چل رہی تھی تو انہوں نے بھٹو صاحب کے عرب ممالک کے دورہ پر روانہ ہونے سے قبل کہا تھا کہ بھٹو صاحب کی حکومت سے وفاداری قائد اعظم کے ارشاد کے مطابق ان کا ایک اہم اور واضح فرض ہے۔(9) یہ وہی جنرل ضیاء صاحب تھے کہ جب جرنیلوں کے ساتھ میٹنگ میں بھٹو صاحب کے ایک وزیر نے بحران کے ممکنہ حل بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فوج اقتدار سنبھال لے اور بعد میں انتخابات کرائے۔تو جنرل ضیاء صاحب نے فوراً کھڑے ہو کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک کر کہا تھا:۔“No Sir, we have no such intention, we are the right arm of the government۔We are loyal and we will remain loyal"۔، نہیں سر ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہم حکومت کا دایاں بازو ہیں۔ہم وفادار ہیں اور وفادار رہیں گے۔(10) اور کچھ ہی عرصہ بعد انہی جنرل ضیاء صاحب نے ان کا تختہ الٹ کر انہیں قید کر دیا اور پھر تختہ دار تک پہنچا دیا۔باقی رہے نام اللہ کا۔جنرل ضیاء کا دور حکومت شروع ہوتا ہے بھٹو صاحب کا تختہ الٹنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے اپنی پہلی نشری تقریر میں پاکستان کے عوام کو یقین دلایا کہ وہ نوے دن کے اندر اندر ملک میں نئے انتخابات کرا کے رخصت ہو جائیں گے۔اور اس آپریشن کا نام انہوں نے آپریشن فیئر پلے رکھا۔بھٹو صاحب کو کچھ ہفتہ نظر بند رکھ کر 28 / جولائی 1977ء کو رہا کر دیا گیا۔ابتداء میں ضیاء صاحب نے بھٹو صاحب کے مخالف کوئی خاص جذبات ظاہر نہیں کئے بلکہ ان کے متعلق کچھ تعریفی کلمات بھی کہے۔اگست کے شروع میں جب بھٹو صاحب لاہور گئے تو لوگوں کے ہجوم نے ان کا استقبال کیا۔لوگوں کی اتنی بڑی تعداد انہیں ایئر پورٹ پر الوداع کہنے آئی تھی کہ عملاً ایئر پورٹ پر ان کی پارٹی