دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 574 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 574

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 574 لوگوں سے حقائق کو پوشیدہ رکھا جا سکے۔بھٹو صاحب لکھتے ہیں کہ اس اپوزیشن نے میری حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے الیکشن سے قبل بیرونی طاقت سے 25 کروڑ اور الیکشن کے بعد 5 کروڑ لئے تھے۔(8) یہاں پر طبعاً ایک سوال اُٹھتا ہے۔اور وہ یہ کہ تین سال قبل 1974ء میں جب احمدیوں کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ان کا خون بہایا جا رہا تھا ، ان کی املاک نذر آتش کی جا رہی تھیں، ان کا بائیکاٹ کر کے ان کا جینا دوبھر کیا جا رہا تھا اس وقت آپ نے برملا کہا تھا کہ نہ صرف آپ بلکہ دوسرے بھی یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک بیرونی ہاتھ کام کر رہا ہے۔مگر آپ نے نہ قوم کو یہ بتایا کہ وہ ہاتھ کون سا تھا اور نہ ہی اس کی سازش کے رد کرنے کے لئے کوئی موثر قدم اُٹھایا بلکہ اس کی سازش کا حصہ بن گئے اور آئین میں ترمیم کر کے احمدیوں کی مذہبی آزادی غصب کر لی۔آج قومی اسمبلی کے سامنے آپ یہ کہنے پر مجبور تھے کہ ایک بیرونی ہاتھ آپ کی حکومت کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ملک کے استحکام کے خلاف سازش کر رہا ہے اور یہ بیرونی ہاتھ دوسرے۔دوسرے مسلمان ممالک کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔اگر بر وقت اس بیرونی ہاتھ کو روک دیا جاتا اور اسے کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا جاتا تو یہ نوبت نہ آتی۔بھٹو صاحب نے فوج کی مدد لینی چاہی کہ کسی طرح گولی چلا کر اس شورش کو ختم کیا جائے اور ملک کے تین شہروں کا نظم و نسق بھی فوج نے سنبھالا مگر جلد ہی جرنیلوں کے بدلتے ہوئے تیور ان کو نظر آ گئے۔کچھ عرب ممالک نے بیچ میں آکر مفاہمت کی کوشش کی مگر بے سود۔عین اس وقت جب کہ پورا ملک ایک بحران کی لپیٹ میں تھا بھٹو صاحب نے کچھ عرب ممالک کا دورہ کیا۔اپوزیشن کے قومی اتحاد نے مئی 1977ء میں اپنے مطالبات پیش کئے جس میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ نئے انتخابات کے نتیجہ میں جو صوبائی اور قومی اسمبلیاں وجود میں آئی تھیں ان کو تحلیل کیا جائے۔مذاکرات کا لمبا دور شروع ہوا۔4 جولائی کی رات کو مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچتے لگ رہے تھے۔بہت سی تگ و دو کے بعد قومی اتحاد نے حتمی مطالبات سامنے رکھ دیئے تھے اور بھٹو صاحب نے تھکا دینے والے مذاکرات سے گزر کر آخر اس رات کو اپنے وزراء کو مطلع کر دیا تھا کہ وہ اب اس مفاہمت پر دستخط کر دیں گے۔وزیر اعظم کا یہ فیصلہ سن کر اور اس پر بات کر کے ان کے کچھ وزراء رات کے ڈیڑھ بجے اپنے گھروں کو واپس گئے۔اور اسی رات