دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 576
576 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کے کارکنوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔یہ سب کچھ ظاہر کر رہا تھا کہ اب تک ان کی مقبولیت بڑی حد تک قائم ہے۔جلد ہی کچھ ایسے آثار ظاہر ہونے لگے کہ ضیاء حکومت کے کچھ اور ارادے بھی ہیں۔بھٹو صاحب نے فیڈرل سیکیورٹی فورس کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی۔ان کے مخالفین کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ذاتی پولیس کے طور پر کام کرتی تھی۔اس تنظیم کے سربراہ مسعود محمود کو گرفتار کر لیا گیا۔5 / ستمبر 1977ء کو بھٹو صاحب کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔اس بار گرفتار کرنے والوں کے تیور بگڑے ہوئے تھے۔گرفتار کرنے والوں نے ان پر سٹین گنیں تانی ہوئی تھیں۔فوج کے کمانڈو ان کی بیٹیوں کے کمروں میں داخل ہو گئے۔ملازموں کو مارا پیٹا گیا۔پورے گھر کو الٹ پلٹ دیا گیا۔13 / ستمبر کو انہیں جسٹس صمدانی کے سامنے پیش کیا گیا۔ان پر احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد کے قتل کا الزام تھا۔آج بھٹو صاحب اسی حج کے سامنے پیش ہو رہے تھے ،جس حج کو کچھ سال قبل انہوں نے ربوہ سٹیشن کے واقعہ کی تحقیق کے لئے مقرر کیا تھا۔جسٹس صدانی نے بھٹو صاحب کی درخواست ضمانت منظور کر لی مگر انہیں کچھ روز کے بعد ایک بار پھر مارشل لاء قواعد کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔مارشل لاء حکام کے مطابق بھٹو صاحب پر قتل کے الزام کی بنیاد یہ تھی کہ جب 5/ جولائی 1977ء کو یعنی جس روز مارشل لاء لگایا گیا تو فیڈرل سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود صاحب کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔جب فوج نے انہیں گرفتار کر کے اپنی تحویل میں رکھا تو پھر ” ضمیر کے بوجھ “ سے مجبور ہو کر 14/اگست 1977ء کو انہوں نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء صاحب کو خط لکھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے انہیں ہدایت دی تھی کہ احمد رضا قصوری صاحب کو قتل کرایا جائے اور پھر ان کی ہدایت پر فیڈرل سیکیورٹی فورس کے کارندوں سے لاہور میں احمد رضا قصوری صاحب پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا ، جس میں ان کے والد نواب محمد احمد قتل ہو گئے مگر احمد رضا قصوری صاحب بچ گئے۔پھر مسعود محمود صاحب نے اسلام آباد کے ایک مجسٹریٹ کے رو برو بھی یہ بیان دیا۔پھر 7 / ستمبر 1977ء کو مسعود محمود نے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست بھی دے دی۔(11) 11 / اکتوبر 1977ء کو لاہور ہائی کورٹ میں بھٹو صاحب کا مقدمہ شروع ہوا۔لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق صاحب اس بینچ کی صدارت کر رہے تھے اور ان کے علاوہ چار اور حج بھی اس بینچ میں تھے