دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 553
553 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تجزیہ کریں تو وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ اگر یہ کارروائی خفیہ انداز میں نہ کی جاتی تو ممبران اس طرح یکسوئی آزادانہ اظہار خیال نہ کر سکتے۔جبکہ ہم اس حقیقت کا جائزہ لے چکے ہیں کہ ممبران کے سوالات میں اگر کوئی چیز نمایاں تھی تو وہ پراگندہ خیالی تھی۔اتنے دن سوالات کرنے کے با وجود وہ اصل موضوع سے صرف کتراتے ہی رہے اور اگر یکسوئی کا یہی طریق ہے کہ کارروائی خفیہ ہو اور ممبران کی آزادانہ اظہار رائے کا بھی یہی طریق ہے تو پھر تو اسمبلی کی ہر کارروائی خفیہ ہونی چاہئے۔بھٹو صاحب نے یہ تو کہا کہ وہ ایک دن اس کارروائی کو منظر عام پر لے آئیں گے مگر اس کے بعد وہ کئی سال برسر اقتدار لیکن انہوں نے اس رہے کارروائی کو منظر عام پر لانے کا قدم کبھی نہیں اُٹھایا۔یہ سوال ہر صاحب شعور ضرور اُٹھائے گا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ سپیکر کے کہنے پر مولوی مفتی محمود صاحب نے مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی اس ترمیم کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔اور متفقہ طور پر یہ ترمیم منظور کر لی گئی۔کچھ ہی دیر بعد یہ بل سینٹ میں پیش کیا گیا اور وہاں پر متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔اور وہاں پر تالیاں بجا کر اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا۔اس روز معلوم ہوتا تھا کہ پاکستان کے تمام سیاسی حلقے تالیاں پیٹ رہے تھے ، ڈیسک بجا رہے تھے ، مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں چراغاں کیا جا رہا تھا۔اور بیچارے یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ احمدیوں کی قسمت کا فیصلہ کر رہے تھے حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنی اور ملک کی قسمت پر مہر لگا رہے تھے۔مولوی خوش تھے کہ ہم نے ایک تیر مارا ہے اور حکومتی پارٹیاں اس بات پر خوشیاں منا رہی تھیں کہ ہم نے اپنی سیاسی پوزیشن اور مضبوط کر لی ہے۔حصہ جلد ہی جو تبصرے آنے لگے تو ان سے بھی یہی معلوم ہوتا تھا کہ وقتی طور پر بھٹو صاحب کے میں بہت سی داد و تحسین آئی ہے۔مجلس عمل برائے ختم نبوت کے مولوی محمد یوسف بنوری صاحب نے ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا۔صدر ورلڈ فیڈریشن آف اسلامک مشنز، سید عبد القادر نے وزیر اعظم کو مبارکباد کی تار بھجوائی اور کہا کہ پوری دنیا کے مسلمان اس فیصلہ کا خیر مقدم کر رہے ہیں اور جس طرح آپ نے اس معاملہ کو طے کیا ہے اس کو سراہتے ہیں، شاہ احمد نورانی صاحب صدر جمعیت العلماء پاکستان