دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 554
554 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری۔نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے لیے عظیم فتح ہے اور انہوں نے اس کے لیے انتھک کوششیں کی ہیں، ایئر مارشل اصغر خان صدر تحریک استقلال نے کہا یہ ایک عظیم کامیابی ہے، جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور صاحب نے کہا کہ وہ اس فیصلہ سے مکمل طور پر مطمئن ہیں صدر مجلس علماء پاکستان نے وزیر اعظم کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اس صدی کی سب سے اچھی خبر ہے ، جمعیت العلماء اسلام کے قائد مفتی محمود صاحب نے کہا کہ یہ فیصلہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا(15)۔ان کے بہت سے دیرینہ مخالف بھی ان پر پھول نچھاور کر رہے تھے۔مثلاً ایڈیٹر چٹان شورش کا شمیری صاحب نے کہا کہ اس فیصلہ پر ملت اسلامیہ ہی نہیں خود اسلام وزیر اعظم کا ممنون ہے (16)۔اسلامک کانفرنس کے سیکریٹری حسن الشہامی صاحب نے جو کہ پاکستان میں موجود تھے بیان دیا کہ اب پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی ملک بن گیا ہے۔اور کہا کہ اس فیصلہ کی نقول دوسرے اسلامی ممالک کو بھی بھیجوائی جائیں گی اور امید ہے کہ یہ ممالک بھی اس فیصلہ کی پیروی کریں گے۔اور اب اخبارات میں یہ خبریں شائع کی جا رہی تھیں کہ اب قادیانیوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے ہٹا دیا جائے گا۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ حنیف رامے صاحب نے یہ فخریہ بیان دیا کہ ہماری حکومت نے صحیح معنوں میں علماء سے بھی زیادہ اسلام کی خدمت کی ہے۔مجلس ختم نبوت کی مجلس عمل نے بیان جاری کیا کہ اس فیصلہ صحیح معنوں میں قومی اتحاد کی بنیاد پڑی ہے اور ان کے صدر نے کہا کہ امید ہے کہ اب اکثر قادیانی مسلمانوں کی تبلیغ کے نتیجہ میں اسلام قبول کر لیں گے۔(17) یہ تھے اس وقت مختلف لوگوں کے خیالات لیکن پھر کیا ہوا۔کیا اس فیصلہ کے بعد قومی اتحاد قائم ہوا؟ ہر گز نہیں بلکہ پاکستان کا معاشرہ ہر پہلو سے اس بری طرح تقسیم ہوا کہ جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔کیا ملک میں اسلامی معاشرہ قائم ہوا؟ کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا بلکہ قتل و غارت اور دہشتگردی کا وہ طوفان امڈا کہ خدا کی پناہ۔اور کیا یہ علماء جو اب بھٹو صاحب کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر رہے تھے ،ان کے وفا دار رہے؟ نہیں یہ مولوی طبقہ کبھی کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتا۔جلد ہی انہوں نے بھٹو صاحب کے خلاف ایک مہم چلائی اور ان کے خلاف، ان کے اہل خانہ کے خلاف ان کے آباء کے خلاف ملک بھر میں وہ گندہ دہنی کا طوفان اُٹھایا کہ شاید ہی کوئی گالی ہو جو نہ دی گئی ہو۔ނ۔