دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 549
549 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ”پھر کہنے لگے کہ جنرل اختر ملک کو کشمیر کے چھمب جوڑیاں محاذ پر نہ روک دیا جاتا تو وہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو تہس نہس کر دیتے مگر ایوب خان تو اپنے چہیتے جنرل یحیی خان کو ہیرو بنانا چاہتے تھے۔1965ء کی جنگ کے اس تذکرے کے دوران بھٹو صاحب نے جنرل اختر ملک کی بے حد تعریف کی۔کہنے لگے اختر ملک ایک باکمال جنرل تھا۔وہ ایک اعلیٰ درجہ کا سالار تھا۔وہ بڑا بہادر اور دل گردے کا مالک تھا اور فن سپاہ گری کو خوب سمجھتا تھا۔اس جیسا جنرل پاکستانی فوج نے ابھی تک پیدا نہیں کیا۔پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے باقی سب تو جنرل رانی ہیں۔“ (11) لیکن توازن اور فراست ایسی اجناس نہیں تھی جو کہ اس دور کے صاحبانِ اقتدار کو میسر ہوں۔اب تو ہر طرف جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت کی آندھیاں چلائی جا رہی تھیں۔ہر طرف سے یہ آوازیں اُٹھ رہی تھیں کہ انہیں مارو، ان کے گھروں کو جلاؤ ، ان کا بائیکاٹ کرو ، ان کو بنیادی حقوق سے محروم کر دو۔ہر سیاستدان یہ سوچ رہا تھا کہ وہ اس مسئلہ پر بیان بازی کر کے کس طرح سیاسی مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ایک روایت ہے کہ یوم دفاع کے دن وزیر اعظم ملک کے عوام کے نام ایک پیغام دیتے ہیں۔اس روز وزیر اعظم بھٹو صاحب نے جو پیغام دیا اس میں انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو مختلف النوع خطرات در پیش ہیں۔بیرونی اشارے پر تخریبی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ملک میں بعض سیاسی گروپ علاقہ پرستی کو ہوا دے رہے ہیں۔اور انتہا پسند فرقہ پرست گروہ ہمارے دفاع کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں“(12)۔بہت خوب ! ملک کے دفاع پر آپ خود اقرار کر رہے ہیں کہ انتہا پسند فرقے ملک کے دفاع کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔مگر جب ملک کو یہ خطرہ لاحق تھا تو آپ کیا کر رہے تھے ؟ آپ ان کے مطالبات تسلیم کر کے ان کو تقویت دے رہے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ احمدی تو ایک چھوٹا سا گروہ ہے اگر ان کے حقوق تلف بھی کر لیے گئے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ تو اپنا بدلہ لینے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔اس سے ہم سیاسی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔یہ بات صحیح بھی تھی لیکن ایک بات پاکستان کے سیاستدان بھول رہے تھے ایک خدا بھی ہے جو احمدیوں پر ہونے والے ہر ظلم کا بدلہ لینے پر قادر ہے۔اور تب سے اب تک اس ملک کی تاریخ عبرت کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔