دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 548 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 548

548 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تھی۔یہ مطالبہ ہمیشہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ہی کیا گیا ہے۔اسی جلسہ میں نورانی صاحب نے ایک طرف تو یہ کہا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دے کر ان کے جان و مال کی حفاظت کی جائے اور دوسری طرف یہ بھی کہا مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو ختم کرنے کے لیے یہ پودا کاشت کیا گیا تھا لیکن اب یہ وقت آگیا ہے کہ اس ا فتنہ کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اور یہ بھی کہا کہ قادیانیوں سے بائیکاٹ جائز ہے (8)۔اور جماعت اسلامی کی طلباء تنظیم واضح الفاظ میں حکومت کو یہ دھمکی دے رہی تھی کہ اگر اس معاملہ میں ان کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ دیا گیا تو حکومت کے لیے عوام کے غیظ و غضب سے بچنا مشکل ہو جائے گا اور دھمکیاں کوئی خفیہ انداز میں نہیں دی جا رہی تھیں بلکہ اخبارات میں شائع ہو رہی تھیں۔(9) 4 / ستمبر کو اسلامی سیکریٹریٹ کے سیکریٹری جنرل حسن التهامی صاحب پاکستان آئے۔انہوں نے بیان دیا کہ میں مختلف اسلامی ممالک میں رابطہ قائم کرنے کے لیے اسلامی ممالک کا دورہ کر رہا ہوں۔اور کہا کہ میں ایک نہایت اہم مشن پر پاکستان آیا ہوں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ وزیر اعظم بھٹو سے کس مسئلہ پر بات کریں گے تو انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے۔(10)۔یہ اعلان ہو چکا تھا کہ قومی اسمبلی 17 ستمبر کو فیصلہ کرے گی۔6 ستمبر کا دن آیا۔یہ دن پاکستان میں یومِ دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے۔اگر کوئی صاحب عقل ہوتا تو یہ دن اس بات کو سوچنے کے لیے ایک موقع تھا کہ پاکستان کے احمدیوں نے اپنے ملک کے دفاع کے لیے کیا قربانیاں دی تھیں۔جب احمدی جنرل میدانِ جنگ میں اترے تھے تو انہوں نے بزدلی نہیں دکھائی تھی بلکہ جنرل اختر حسین ملک ، لیفٹننٹ جنرل افتخار جنجوعہ شہید اور میجر جنرل عبد العلی ملک جیسے احمدی جرنیلوں کے کارنامے ایسے نہیں جنہیں فراموش کیا جا سکے۔جب جماعتِ احمدیہ تقسیم برصغیر کے وقت داغِ ہجرت کے بعد شدید بحران سے گزر رہی تھی اس وقت بھی پاکستانی احمدیوں نے رضا کارانہ طور پر ملک کے دفاع میں حصہ لیا تھا۔خود ایک احمدی جنرل کے متعلق بھٹو صاحب کے خیالات کیا تھے ؟ اس کا اندازہ ان کے اس تبصرے سے ہو جاتا ہے جو انہوں نے جیل میں اس وقت کیا تھا جب انہیں سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔کرنل رفیع صاحب جو اس وقت جیل میں ڈیوٹی پر تھے بھٹو صاحب کی ایک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: