دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 53
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 53 لئے حجاز سے وابستہ ہر چیز کے لئے ان کے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا ہو نا قدرتی بات تھی۔چنانچہ انڈیا آفس کے ایک افسر کر یو Crewe نے 13 / اپریل 1915 ء کو حکام بالا کو جور پورٹ بھیجوائی اس میں لکھا:۔”۔۔۔۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ استنبول پر قبضہ ہو جانے کے بعد شریف مکہ حسین سے متعلق ہماری پالیسی کی وجہ سے ہمیں کوئی پریشانی ہو گی۔ہمیں چاہئے کہ ہم اسے ترکی کی غلامی سے نجات دینے کے لئے ہمارے بس میں جو کچھ ہے وہ کریں۔لیکن اس سلسلے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ ہم اسے مقام خلافت پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ہندوستان میں آج کل پان اسلام ازم کی جو تحریک چلی ہوئی ہے اس کا منبع اور مرکز استنبول ہے۔یہاں کے اسلام پسند عناصر اس بات کو قطعی پسند نہیں کریں گے کہ خلافت عثمانیوں کے ہاتھ سے نکل جائے۔لیکن شریف مکہ یا کوئی اور عرب سنی لیڈر اپنے آپ کو عثمانیوں سے آزاد کر کے خلافت جیسے متبرک عنوان کو حاصل کر لے تو مسلمان رائے عامہ اور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی ان کا ساتھ دینے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں رہ جائے گا۔۔۔۔۔۔لیکن اس کے باوجو د میر اخیال یہ ہے کہ آئندہ مسئلہ خلافت کی بنا پر مسلمانوں میں پھوٹ پڑسکتی ہے۔در حقیقت دیکھا جائے تو اس پھوٹ میں ہمارا سر اسر فائدہ ہی ہے۔“ (بحوالہ تحریک خلافت تحریر ڈاکٹر میم کمال او کے ، باسفورس یونیورسٹی استنبول، ترجمہ ڈاکٹر نثار احمد اسرار۔سنگ میل پبلیکیشنز لاہور 1991ء۔ص62 تا 63) جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا جب شریف حسین نے سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کی تو ہندوستان کے مسلمانوں نے اس کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کیا۔اس وقت حجاز پر شریف مکہ کی اور نجد کے علاقہ پر سعودی خاندان کی حکومت تھی۔جب شریف مکہ نے یہودیوں کے فلسطین میں آباد ہونے کے خلاف رد عمل دکھایا تو برطانوی حکومت نے اس سے اپنی حمایت کا ہاتھ کھینچ لیا اور سعودی خاندان نے حجاز پر بھی قبضہ کر لیا۔ایک عرصہ سے تو جماعت احمدیہ کے مخالف علماء اپنے گلے پھاڑ پھاڑ کر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو اور جماعتِ احمدیہ کی خلافت کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لئے کھڑا کیا تھا۔لیکن یہ انکشافات تو خود غیر احمدی مسلمانوں میں سے محققین نے کیسے ہیں کہ اصل میں تو مغربی قوتوں کا یہ ارادہ تھا کہ سنی عرب لیڈروں میں سے کسی کو جو اُن کے ہاتھ میں ہو عالم اسلام کا خلیفہ بنا کر اپنے مقاصد پورے کئے جائیں۔