دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 54 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 54

54 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری عالم اسلام میں ایک وقت میں دو خلفاء تو نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتِ احمدیہ میں تو خلافت قائم تھی۔اور یہ بات اس گروہ کو کسی طرح بھی برداشت نہ تھی جو شاہ فیصل کو عالم اسلام کا خلیفہ بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔اس کے علاوہ یہ مسئلہ بھی تھا کہ مختلف ممالک میں مختلف فقہی گروہوں کی پیروی کرنے والے مسلمان اکثریت میں تھے۔سعودی عرب کے بادشاہ وہابی تھے جبکہ انڈونیشیا کے اکثر مسلمان شافعی، افریقہ کے اکثر مسلمان مالکی اور کئی دوسرے مسلمان ممالک میں حنفی مسلمانوں کی اکثریت تھی۔اس لئے اس بات کا امکان تھا کہ دوسرے مسلک سے تعلق رکھنے والے علماء سعودی حکمرانوں سے رشوت لیتے ہوئے اور ان کی قیادت قبول کرتے ہوئے ہچکچائیں۔لیکن اگر یہ مد دمدارس اور مساجد کے نام پر دی جاتی تو ظاہر تھا کہ کم رد عمل ہوتا اور اگر اس امداد کو جماعت احمدیہ کی مخالفت کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا تو دوسرے مسلک کے علماء کو یہ پیشکش قبول کرنے میں کوئی عذر نہ ہوتا، کیونکہ وہ تو پہلے ہی جماعت کی مخالفت پر ادھار کھائے بیٹھے تھے۔اس طریق پر دنیا بھر کے مسلمان سعودی اثر کے نیچے آجاتے اور کوئی خاص رد عمل بھی پیدا نہ ہوتا۔اب جب کہ لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کا آغاز قریب آرہا تھا اور یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ اس کا نفرنس کے موقع پر جماعت احمدیہ کے خلاف ایک باقاعدہ مہم کا آغاز ہونے والا ہے۔اس ضمن میں جماعت کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے وزیر خارجہ پاکستان عزیز احمد صاحب کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔لیکن وزیر خارجہ نے اس سے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ ہر گز اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ اس موقع کو جماعت احمدیہ کے خلاف مہم چلانے کے لیے استعمال کیا جائے بلکہ اس موقع پر مذ ہبی پروپیگنڈا پر سختی سے پابندی ہو گی اور اس نازک موقع پر کوئی سیاسی شوشہ چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پھر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی بھٹو صاحب سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھٹو صاحب کے سامنے بھی کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔اس پر بھٹو صاحب نے بھی یقین دلایا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف کسی قسم کا پروپیگنڈا نہیں کیا جائے گا۔لیکن اس بات کے شواہد بھی سامنے آرہے تھے کہ یہ سب زبانی جمع خرچ کی جارہی ہے۔ناقابل تردید ثبوت سامنے آرہے تھے اور وہ پمفلٹ بھی مل چکے تھے جنہیں جماعت اسلامی نے چھوایا تھا اور انہیں اس موقع پر مندوبین میں وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے کا پروگرام تھا۔اور ان ارادوں کو مکمل طور پر خفیہ رکھنے کے لیے کوئی خاص کو شش بھی نہیں کی جارہی تھی۔جماعت کے مخالف جرائد بھی شاہ فیصل کو عالم اسلام کا خلیفہ بنانے کا پروپیگنڈا کر رہے تھے۔اور اس کے ساتھ جماعت احمدیہ کے خلاف زہر بھی