دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 52 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 52

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اسلام کے اتحاد اور ترقی کے لیے منصوبے بنائے جائیں گے، فیصلے کئے جائیں گے۔مگر یہ کانفرنس ایک خاص پس منظر میں ہو رہی تھی۔بھٹو صاحب ایک ذہین سیاستدان تھے ، ان کی خواہش تھی کہ انہیں بین الا قوامی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل ہو۔وہ صرف عزائم ہی نہیں صلاحیتیں بھی رکھتے تھے۔وہ تیسری دنیا کا لیڈر بننے کی کوشش بھی کرتے رہے۔مگر اس منظر پر پہلے پنڈت جواہر لال نہرو اور پھر ان کی صاحبزادی اور بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی قد آور شخصیتیں حاوی تھیں۔بین الا قوامی سطح پر اپنا لوہا منوانے کا ایک راستہ یہ تھا کہ وہ عالم اسلام کے ایک لیڈر کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔اس سلسلے میں انہیں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل کی پوری حمایت حاصل تھی۔ان کا مشتر کہ خواب یہ تھا کہ بھٹو صاحب اسلامی دنیا کے سیاسی لیڈر اور سعودی عرب کے بادشاہ عالم اسلام کے روحانی لیڈر اور خلیفہ کے طور پر سامنے آئیں۔شروع میں تو شاہ فیصل کو عالم اسلام میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں تھا۔مگر ان کے پاس دولت کی ریل پیل تھی اور سعودی عرب کے فرمانروا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے متولی بھی تھے اور ہر مسلمان کا دل ان مقدس مقامات کی محبت سے لبریز تھا۔مغربی طاقتوں کا مفاد بھی اس میں تھا کہ کسی طرح شاہ فیصل کو دنیائے اسلام کا روحانی پیشوا بنا دیا جائے تاکہ اس طرح مشرق وسطی میں مغرب کے مفادات محفوظ کر دیئے جائیں۔اور یہ سب کچھ اس طرح دبے پاؤں کیا جائے کہ سادہ لوح مسلمانوں کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔یعنی اعلانات تو سعودی عرب کے لاؤڈ سپیکروں سے کئے جارہے ہوں اور ان کا مائیکروفون مغرب کے ہاتھ میں ہو۔یہ بات پڑھنے والوں کے لئے کسی اچھنے کا باعث نہیں ہونی چاہئے۔بڑی طاقتیں اپنے مقاصد کے لئے اس قسم کے کھیل کھیلتی رہتی ہیں اور یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ مغربی طاقتیں اپنے مقاصد کے لئے اس قسم کا کھیل شروع کریں۔پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی حکومت نے اسی طرح کی کوشش کی تھی۔پہلی جنگ عظیم کے دوران ترکی کی سلطنت عثمانیہ جرمنی کا ساتھ دے رہی تھی اور ہندوستان کے بہت سے مسلمان ترکی کی خلافت عثمانیہ سے ہمدردی رکھتے تھے۔یہ چیز انگریز حکمرانوں کو پریشان کر رہی تھی۔چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ایک ایسے شخص کو بطور خلیفہ کے لئے کھڑا کیا جائے جو سلطنت برطانیہ کے ساتھ تعلق اور ہمدردی رکھتا ہو تو یہ ان کے لئے بہت مفید ہو گا۔اس کے لئے انہیں یہ خیال آیا کہ جو حکمران اس وقت حجاز پر حکومت کر رہا ہے اور ان کے ہاتھ میں بھی ہے اسے اس کام کے لئے کھڑا کیا جائے۔اس وقت حجاز پر شریف مکہ شریف حسین کی حکومت تھی اور اس وقت ان کے انگریز حکومت سے قریبی تعلقات بھی تھے اور چونکہ حجاز میں مکہ اور مدینہ واقع ہیں اس 52 52