دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 534 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 534

534 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اب ہر پڑھنے والے کے ذہن میں یہ سوال اُبھرے گا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نعوذ باللہ ایک منصوبے کے تحت خاص طور پر ختم نبوت اور اپنے مقام کے بارے میں اپنا موقف تبدیل کر رہے تھے اور ان کے مطابق اس عمل کو تین مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جن کے مکمل ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب دعاوی سامنے آئے۔جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں کہ اٹارنی جنرل صاحب کے مطابق ”حقیقۃ الوحی “ کی اشاعت تک ابھی دوسرا مرحلہ چل رہا تھا اور یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے صرف ایک سال قبل شائع ہوئی تھی تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس فرضی تیسرے مرحلہ پر جو عقائد اور دعاوی پیش کئے وہ کب کیے گئے ؟ کیونکہ اس کے بعد تو آپ کا وصال وو ہو گیا تھا۔سب حیران ہوں گے کہ اب اٹارنی جنرل صاحب اس فرضی تیسرے مرحلہ کی دلیل کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کس کتاب کی تحریر پیش کریں گے؟ سب پڑھنے والوں کے لئے یہ بات حیران کن ہو گی کہ اس غرض کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا۔انہوں نے ممبرانِ اسمبلی کو مخاطب کر کے کہا کہ اب ہم تیسرے مرحلے کی طرف آتے ہیں۔اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب " كلمة الفصل “ کا حوالہ پیش کیا اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کی اشاعت ریویو آف ریلجز میں 1915ء میں ہوئی تھی۔اٹارنی جنرل صاحب کو کچھ تو ہوش سے کام لینا چاہیے تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو 1908ء میں فوت ہو چکے تھے۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص اپنی وفات کے بعد بھی ایک منصوبے کے تحت اپنے عقائد تبدیل کر رہا ہو۔اس کے بعد انہوں نے 5 / ستمبر 1974ء کی تقریر کو ختم کرتے ہوئے یہ نکتہ اُٹھایا کہ اگر بانی سلسلہ احمدیہ نبی تھے تو احمدی یہ کیوں نہیں تسلیم کرتے کہ ان کے بعد بھی نبی آ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وہ جماعت کا موقف نا مکمل طور پر پیش کر رہے تھے۔رہے تھے۔حضور نے یہ فرمایا تھا کہ آنحضرت صلی علیم کے بعد وہ نبی آ سکتا ہے جس کی آنحضرت علی ای کلم نے خبر دی ہو۔اس طرح 5/ ستمبر 1974ء کی تقریر ختم ہوئی۔سکتا ہے۔