دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 535 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 535

535 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جب اٹارنی جنرل صاحب نے 16 ستمبر کو اپنی تقریر شروع کی تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کوئی ممبر تو اس بات کی نشاندہی کرتا کہ کل آپ نے بہت سے تاریخی حقائق کو خلط ملط کیا ہے، اس بات کی درستگی ہونی چاہیئے۔وہاں پر کئی جماعت کے مخالف ممبران ایسے بھی بیٹھے تھے جن کو دعوی تھا کہ وہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے وقف ہیں۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔ایسا کیوں نہیں ہوا؟ اس کی دو ہی وجوہات ہو و سکتی ہیں:۔1)۔وہاں پر بیٹھے ہوئے سب احباب جماعتی لٹریچر سے مکمل طور پر نا واقف تھے۔وہ یہ صلاحیت بھی بخوبی نہیں رکھتے تھے کہ ان کتب کے اوپر موٹے حروف میں لکھے ہوئے سن اشاعت کو پڑھ سکیں۔-2 ان احباب کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ انصاف اور عقل کے تقاضے پورے ہوتے ہیں کہ نہیں۔وہ ہر قیمت پر جماعت احمدیہ کے خلاف نیش زنی کرنا چاہتے تھے خواہ اس کے لئے سفید جھوٹ ہی کیوں نہ بولنا پڑے۔66 اب بیٹی بختیار صاحب نے یہ لایعنی دعویٰ پیش کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے آخر میں نعوذُ باللہ آنحضرت صلی ال نیلم کے ساتھ برابری اور پھر اپنی فضیلت کا دعویٰ کیا تھا۔اس سے زیادہ لایعنی دعوی کوئی نہیں ہو سکتا اور وہ یقیناً حقیقت جانتے تھے کیو نکہ محضر نامہ میں آنحضرت صلی للی علم کی فضیلت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پر مشتمل پورا باب شامل کیا گیا تھا۔اس باب کا نام تھا ” شان خاتم الانبیاء صلى الليل مبانی سلسلہ احمدیہ کی نگاہ میں “۔یہ باب محضر نامہ کے صفحہ 71 سے صفحہ 90 پر موجود ہے۔ہر کوئی پڑھ سکتا ہے۔ان حوالوں میں صاف لکھا ہے آنحضرت صلی علی کی تمام انبیاء سے بڑھ کر اور تمام انبیاء سے افضل ہیں۔دنیا میں معصوم کامل صرف آنحضرت صلی لی کم پیدا ہوئے ہیں۔آنحضرت صلی یکم کی عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور ان کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔اب آسمان کے نیچے صرف ایک ہی نبی اور ایک ہی رسول ہے یعنی محمد مصطفے علا الم جو اعلیٰ اور افضل سب نبیوں سے اور اعلیٰ اور اکمل سب رسولوں سے ہے۔رسولوں سے ہے۔تمام کمالاتِ نبوت آپ صلی یہ کام پر ختم ہو گئے۔وہ شخص جھوٹا اور مفتری ہے جو آپ کی نبوت سے الگ ہو کر کوئی صداقت پیش کرتا ہے۔اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ان سب حوالوں کو پڑھ کر کوئی شخص خواہ کتنا ہی