دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 533 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 533

533 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری فرما رہے ہیں۔اس لئے انہوں نے دو مثالوں یا یوں کہنا چاہیے دو غلطیوں پر اکتفا نہیں کی بلکہ ان میں اضافہ کرتے ہوئے تیسری مثال پیش کی۔یہ مثال ”ازالہ اوہام“ کی تھی۔انہوں نے تحریر کا حوالہ پڑھا روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 412۔یہ کتاب بھی 1889ء کے بعد 1891ء میں لکھی گئی تھی۔چوتھی مثال وہ کسی اشتہار کی دینا چاہتے تھے لیکن چونکہ نہ نام صحیح پڑھا گیا اور صرف تاریخ بتائی سن نہیں بتایا اس لئے اس کا تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔اٹارنی جنرل صاحب نے قومی اسمبلی کے علم میں اضافہ فرماتے ہوئے کہا کہ 1888ء یا 1889ء میں بانی سلسلہ احمدیہ کے دعاوی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔انہوں ایک بار پھر ڈرامائی انداز میں کرسی صدارت کو مخاطب کر کے کہا کہ 1889ء میں بیعت کے بعد بانی سلسلہ احمدیہ نے بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے موقف میں تبدیلی کرنی شروع کی۔انہوں نے کہا کہ شاید میں غلط ہوں لیکن شروع میں بانی سلسلہ احمدیہ نے بہت محتاط انداز میں اپنے سابقہ موقف کو بدلنے کا سلسلہ شروع کیا۔اب توقع یہ کی جا سکتی تھی کہ یہ صاحب ایسی تحریروں کی مثالیں پیش کریں گے جو کہ 1889ء کے معا بعد کے زمانے کی ہیں لیکن اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر تمام اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے لیکچر سیالکوٹ کی مثال پیش کی اور حوالہ پڑھا" روحانی خزائن جلد20 صفحہ 327"۔یہ لیکچر 1889ء کے کوئی پندرہ سال بعد 2/ نومبر 1904ء کو دیا گیا تھا اور اس سے کئی سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ نبوت سامنے آچکا تھا۔شاید پڑھنے والوں کو یہ توقع ہو کہ اب ان کی غلطیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا ہو گا لیکن انہوں نے جو اگلی مثال دی وہ ملاحظہ کیجئے۔اٹارنی جنرل صاحب نے اگلی مثال " تجلیات الہیہ کی پیش کی۔یہ کتاب حضرت مسیح موعود نے وفات سے صرف دو سال قبل 1906ء میں تحریر کی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے کئی سال بعد 1922ء میں اسے شائع کیا گیا تھا۔وہ بار بار بیچ میں ” مباحثہ راولپنڈی “ کا نام بھی لے رہے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں یہ تاثر تھا کہ یہ مباحثہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی مباحثہ تھا۔حالانکہ یہ مباحثہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے کئی سال بعد خلافتِ ثانیہ میں ہوا تھا۔پھر انہوں نے اپنی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کے دور کے دوسرے حصہ کی تحریروں کی مثال دیتے ہوئے ”حقیقة الوحی “ کا حوالہ دیا۔یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے صرف ایک سال قبل مئی 1907ء میں شائع ہوئی تھی۔