دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 532 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 532

532 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تحت خود اپنے عقائد تبدیل کر رہے تھے۔اور سپیکر کو مخاطب کر کے کہا کہ جہاں تک میں نے نظر ڈالی ہے بانی سلسلہ احمدیہ کی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلا دور 1875–76ء لے کر 1888-89ء تک کا ہے، جب وہ آریہ سماج اور عیسائیوں سے مقابلہ کر رہے تھے۔اس وقت ان کے وہی خیالات تھے جو کہ مسلمانوں کے دوسرے مسلمان لیڈروں کے تھے۔اب اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی طرف سے ختم نبوت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تحریریں پڑھنی شروع کیں جن کے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ یہ 1889ء سے پہلے کی ہیں اور اس بنیاد پر وہ مفروضوں کی ایک بلند عمارت کھڑی کر رہے تھے۔ذرا اٹارنی جنرل صاحب کی پیش کردہ مثالیں ملاحظہ ہوں۔واضح رہے کہ وہ تمام حوالے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مجموعے ” روحانی خزائن “ سے پیش کر رہے تھے اور اس کی جلدیں وہاں پر موجود تھیں اور روحانی خزائن میں سب کتب زمانی ترتیب سے جمع کی گئی ہیں اور ہر کتاب کے متعلق یہ واضح لکھا ہوا ہے کہ یہ کب شائع ہوئی۔اس لئے کوئی بھی شخص جو صرف پڑھنا جانتا ہو بڑی آسانی سے معلوم کر سکتا ہے کہ یہ کتاب کب لکھی گئی۔پہلی مثال انہوں نے روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 220 کی پیش کی اور کہا کہ وہ عربی عبارت کا ترجمہ پڑھ رہے ہیں۔روحانی خزائن کی جلد 7 کے صفحہ 220 پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ” حمامۃ البشری“ چل رہی ہے۔پہلی قابل ذکر بات یہ ہے کہ جو عبارت وہ پڑھ رہے تھے وہ اس صفحہ پر موجود ہی نہیں۔دوسری بات یہ کہ جیسا کہ کتاب کے سرورق پر بھی اشاعت کا سال لکھا ہوا ہے اور پیش لفظ میں بھی واضح لکھا ہوا ہے۔یہ کتاب 1893ء میں لکھی گئی اور فروری 1894ء میں شائع ہوئی اور اٹارنی جنرل صاحب اسے 1889ء سے قبل کی تحریر کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ایک مثال تو غلط ہو گئی۔ایک غلطی تو کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ وہ انگلی مثال کس کتاب سے پیش فرماتے ہیں۔انہوں نے اگلا حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف کتاب البریہ “ کا پڑھا اور حوالہ پیش کیا کہ یہ عبارت ” روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 217و218“ کے حاشیہ میں ہے۔جیسا کہ اس جلد کے صفحہ 3 پر لکھا ہوا ہے اور کتاب کے سرورق پر بھی موٹا موٹا لکھا ہوا ہے یہ کتاب 1889ء کے نو سال بعد جنوری 1898ء میں شائع ہوئی تھی اور یحییٰ بختیار صاحب اس تحریر کو 1889ء سے پہلے کی تحریر کے طور پر پیش کر رہے تھے۔اٹارنی جنرل صاحب سمجھتے تھے کہ وہ کوئی بہت گہری تحقیق پیش موجود وو