دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 531
531 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری دلچسپی نہیں تھی۔پہلی بات تو یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر فرمودہ دس شرائط بیعت پہلی بیعت سے بھی پہلے ایک اشتہار کی صورت میں شائع ہو چکی تھیں اور اس کے بعد بھی جماعت کی سینکڑوں کتب میں یہ شرائط شائع ہوتی رہی ہیں ان میں سے برٹش گورنمنٹ سے وفاداری کی کوئی شرط شامل نہیں ہے اگر ہے تو یہ ہے:۔دو چہارم : یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی نا جائز تکلیف نہیں دے گا۔زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔“ ہشتم : یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنے وو ہر ایک عزیز سے زیادہ سمجھے گا۔“ البتہ جیسا کہ ہم حوالہ درج کر چکے ہیں، جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ” آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تو اس کے اغراض و مقاصد میں سے پہلا یہ تھا کہ یہ تنظیم مسلمانوں میں برٹش گورنمنٹ وفاداری کے خیال کو قائم رکھنے اور اس میں اضافہ کرنے کے لئے کوشاں رہے گی۔نہ جانے اٹارنی جنرل صاحب سوڈان اور سماٹرا کیوں پہنچ گئے ؟ آل انڈیا مسلم لیگ کے ان اغراض و مقاصد کی موجودگی میں یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمان انگریز حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے کوششیں کر رہے تھے۔اب یہ تقریر ایک وادی سے دوسری وادی میں بے تکلف بہک رہی تھی۔اب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیه السلام کے اندازِ تفسیر کی طرف رخ کیا اور یہ انکشاف فرمایا کہ دعوی مسیحیت کے بارے میں چند آیات چھوڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انداز تفسیر سر سید احمد خان صاحب جیسا ہی تھا۔یہ دعویٰ وہی شخص کر سکتا ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی کچھ بھی خبر نہ ہو۔اگر یہ صاحب صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ” برکات الدعاء “ پر ایک نظر ہی ڈال لیتے تو ایسی فاش غلطی نہ کرتے۔پہلی بیعت کے ذکر کے بعد انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جیسے وہ کوئی بہت ہی گہری تحقیق پیش کر رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جیسے نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود ایک منصوبے کے