دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 479 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 479

479 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یعنی ابھی اپنی طرف سے دلیل کے طور پر ایک حوالہ پیش کیا اور کچھ ہی دیر میں وہ کھسیانے ہو کر کہہ رہے تھے وہ تو غلط تھا۔اب بیٹی بختیار صاحب نے یہ دقیق نکتہ بیان فرمایا کہ ” بعض دفعہ Page ٹھیک ہوتا ہے کتاب غلط ہوتی ہے۔کچھ پتہ نہیں ہوتا اس پر۔میرے لئے بڑی مشکل ہو جاتی ہے۔کیونکہ آپ بھی difficulty ہے اتنی کتابوں میں trace کرنا۔66 اٹارنی جنرل صاحب کے واویلے میں بیچارگی نمایاں ہوتی جا رہی تھی۔کارروائی ختم ہو رہی تھی اور اب تک حوالوں کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا تھا۔اب تک حوالہ جات کے معاملہ میں جو غلطیاں ان سے ہو چکی تھیں اس پس منظر میں اس پر تبصرہ کی ضرورت نہیں۔پھر ان کی گفتگو کا سلسلہ کچھ بے ربط سا ہو گیا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آپ غدر 1857ء کی جنگ کو جہاد نہیں سمجھتے۔اس میں بہت سے بچوں کو اور عورتوں کو مارا گیا تھا لیکن 1947ء میں آزادی کے وقت بھی تو بہت سے بچوں اور عورتوں کو فسادات کے دوران مارا گیا تھا۔یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس منطق سے کیا نتیجہ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔آخر وہ 1857ء کی جنگ سے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد جماعتِ احمدیہ کے وفد سے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کیوں کرانا چاہ رہے تھے۔حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا کہ اُس وقت کن لیڈروں نے ان واقعات کو سراہا تھا اور Condemn نہیں کیا تھا۔اگر ان کے نام مجھے پتہ چل جائیں تو میں ممنون ہوں گا۔بات آگے چلی تو اٹارنی جنرل صاحب نے چشمہ معرفت کا ایک حوالہ پڑھنے کی کوشش کی اور پھر خود ہی کہا کہ یہ حوالہ تو غلط ہے۔پھر چشمہ معرفت کے صفحہ 39 پر لکھا ہے کہ ” ایسی بات غلط ہے کہ زبان ایک ہو وحی