دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 435
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 435 22 / اگست کی کارروائی 22 اگست کو بھی اسی موضوع پر گفتگو جاری رہی کہ جہاد بالسیف کا زمانہ اس وقت نہیں ہے۔کب تک یہ جہاد ملتوی رہے گا۔ایسا کیوں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔زیادہ تر پرانے سوالات ہی دہرائے جا رہے تھے۔صرف ایک حدیث اس ساری بحث کا فیصلہ کر دیتی ہے۔اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ کریم نے مسیح موعود کی آمد کی نشانیاں بیان فرمائیں اور دیگر نشانیوں کے علاوہ آنحضرت صلی الم نے ایک نشانی يَضَعُ الْحَزب کی بھی بیان فرمائی ہے یعنی مسیح موعود کی آمد کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہو گا کہ وہ جنگوں کا خاتمہ کرے گا۔(98) ہے یہ اعتراض بھی جماعت احمدیہ کے خلاف بڑے زور و شور سے پیش کیا جاتا ہے کہ جماعت احمد یہ جہاد کی قائل نہیں اور یہ ایک اہم رکن اسلام کا ہے اور یہ جماعت اس کی منکر ہے۔دیگر اعتراضات کی طرح یہ اعتراض بھی معقولیت سے قطعاً عاری ہے۔اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جماعت احمدیہ قطعاً جہاد کی منکر نہیں بلکہ قرآن کریم اور نبی اکرم صلی کریم کے بیان کردہ معیار کے مطابق پوری دنیا میں حقیقی معنوں میں جماعت احمدیہ ہی جہاد کر رہی ہے جب کہ جماعت احمدیہ پر الزام لگانے والے اس اہم فرض سے مسلسل غفلت برت رہے ہیں۔لیکن یہ بحث اٹھانے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جہاد کہتے کسے ہیں۔قرآن کریم نے اس کے بارے میں کیا تعلیم دی ہے۔آنحضرت صلی الم نے اس کے بارے میں کیا راہنمائی فرمائی ہے۔یہ باتیں سمجھے بغیر تو یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کون جہاد کا منکر ہے اور کون جہاد کا منکر نہیں ہے۔۔22 / اگست کی کارروائی کے شروع میں جب یہ ذکر چلا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جیسا کہ آنحضرت علی ایم نے پیشگوئی فرمائی تھی، دین کے نام پر قتال یعنی جہاد صغیر کی شرائط پوری نہیں ہوتی