دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 434 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 434

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 434 ایک فتویٰ منسوب ہے جس میں ہندوستان کے ان علاقوں کو جن پر اس وقت نصاری کی حکومت تھی، دارالحرب قرار دیا تھا۔(فتاوی عزیزی ، از شاه عبدالعزیز صاحب۔ناشر سعید کمپنی ص 422,421) یہ مثال اس لئے غیر متعلقہ تھی کہ اس وقت یہ بحث ہو رہی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جہاد بالسیف کی شرائط پوری ہو رہی تھیں کہ نہیں اور اس وقت علماء کے فتاویٰ کیا تھے اور شاہ عبد العزیز صاحب تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش سے قبل ہی 1823 ء میں فوت ہو چکے اور یہ فتویٰ تو اس وقت سے بھی پہلے کا ہے اور یہ فتویٰ ان کی وفات سے یہ فتویٰ ان کی وفات سے پہلے کا ہے اور جیسا کہ فتویٰ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں اس وقت انگریز حکومت ہندوستان میں پوری طرح قائم نہیں ہوئی تھی ہر طرف چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم تھیں جو کہ ایک دوسرے سے بر سر پیکار تھیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس فتویٰ میں فقط دارالحرب کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے ،کسی کے خلاف قتال کا فتویٰ نہیں دیا گیا اور نہ خود شاہ عبد العزیز صاحب نے ساری عمر انگریز حکمرانوں کے خلاف کسی قتال میں شرکت کی۔ابھی یہ موضوع جاری تھا کہ 21/ اگست کی کارروائی ختم ہوئی۔