دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 436
436 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تھیں۔تو اس دوران اٹارنی جنرل صاحب نے یہ انوکھا نکتہ بیان کیا کہ اس دور میں مہدی سوڈانی نے تو قتال کا فتویٰ دیا تھا اور انگریزوں کے خلاف جنگ کی تھی۔یہ کوئی دلیل نہیں تھی۔جماعت احمدیہ کے نزدیک مہدی سوڈانی کا کوئی فعل سند نہیں۔اب کتنے مسلمان اس کو مہدی تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا فعل اور فتویٰ سند ہو۔اگر وه مهدي برحق ہوتا تو اس کی تحریک کا یہ انجام نہ ہوتا کہ بالآخر صفر ہو جاتی۔اس کے علاوہ چند اور حقائق قابل توجہ ہیں۔مہدی سوڈانی تو جماعت احمدیہ کے قیام سے قبل ہی 1885ء میں انتقال کر گیا تھا۔البتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور ماموریت کے دوران اس کے خلیفہ اور انگریزوں کے درمیان جنگ ہوئی تھی اور اس دور میں جامع ازہر کے علماء نے مہدی سوڈانی اور اس کے فرقہ کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا تھا۔(اسلامی انسائیکلو پیڈیا ص1391) سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ جہاد کا حکم کب نازل ہوا اور آنحضرت علی ام نے اپنے عمل سے اس کی کیا تشریح فرمائی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جہاد کا حکم آنحضرت صلی این یکم کی حیات مبارکہ کے مکی دور میں نازل ہو چکا تھا۔اللہ تعالیٰ سورۃ الفرقان میں ارشاد فرماتا ہے۔فَلَا تُطِعِ الكَفِرِيْنَ وَجَا هِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان : 53) یعنی کافروں کی پیروی نہ کر اور اس کے ذریعہ ان سے ایک بڑا جہاد کر۔مفسرین اس آیت کریمہ سے یہی مطلب لیتے رہے ہیں کہ اس میں قرآنِ کریم کے ذریعہ جہاد کرنے کا حکم ہے۔چنانچہ تفسیر کی مشہور کتاب فتح البیان میں یہی لکھا ہوا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جہاد سے صرف یہی مراد تھی کہ قبال کیا جائے اور جنگ کی جائے تو نا ممکن تھا کہ اس حکم کے بعد رسول کریم صلی ا ہم اور آپ کے صحابہ کی زندگی میں ہی بلا توقف قتال اور جنگ