دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 433
433 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری طرف سعودی خاندان اور شریف مکہ کا خاندان انگریزوں۔سے بھاری وظیفہ اور اسلحہ لے کر ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے خلاف سرگرمیوں میں مصروف تھے اور ان کا یہ فتویٰ تھا کہ ترکی کی حکومت کی یہ جنگ جہاد نہیں ہے۔تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اب اسی سعودی حکومت سے وظیفے لے کر پاکستان کے مولوی یہ پروپیگینڈا کر رہے تھے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریز حکومت کو خوش کرنے کے لئے یہ فرمایا تھا کہ اس وقت جہاد صغیر جائز نہیں۔اس بحث کے دوران اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال کیا کہ کیا شاہ عبد العزیز صاحب نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا تھا کہ نہیں؟ حضور نے فرمایا کہ اس بات کا حوالہ کیا ہے کہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا تھا؟ معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اب غلط اور نامکمل حوالوں کو پیش کرنے کی شرمندگی سے عاجز آچکے تھے۔ممبران اسمبلی غلط حوالوں کے ساتھ سوال کرتے تھے اور شرمندگی کی بختیار صاحب کو اُٹھانی پڑتی تھی۔اب انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جماعت کے مخالفین کے دیئے ہوئے حوالے کم سے کم پیش کئے جائیں۔انہوں نے یہ عجیب جواب دیا ” کوئی بھی نہیں۔میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ میں نے ان کے حوالے بند کرادیئے ہیں۔“ اس پر وو حضور نے فرمایا:۔"۔یہ اس قسم کا سوال ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔“ واضح رہے کہ شاہ عبد العزیز صاحب ، حضرت شاہ ولی اللہ کے بڑے صاحبزادے تھے لیکن اس موقع پر بھی اٹارنی جنرل صاحب نے غلط مثال پیش کرنے کی نیم دلانہ کوشش کی تھی۔یہ حقیقت ہے کہ ان کی طرف