دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 432
432 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری الله اسلامی لٹریچر میں اور نبی اکرم علی ایم کے ارشادات میں تین جہادوں کا ذکر ہے۔ایک کو ہمارا لٹریچر کہتا ہے” صلى وو جہاد اکبر“ اور اس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے ” اپنے نفس کے خلاف جہاد ، محاسبه نفس، self criticism اصلاح نفس کی خاطر " اس کو اسلامی اصطلاح میں "جہاد اکبر " کہتے ہیں۔اور ایک اسلامی اور قرآنِ کریم کی اصطلاح میں آتا ہے ” جہاد کبیر “ اور وہ قرآنِ عظیم اور اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کا نام قرآن کریم میں آیا ہے:۔۔۔(آگے ریکارڈ میں آیت درج نہیں کی گئی) قرآنِ کریم کو لے کر دنیا میں اس کی اشاعت کا جو کام ہے وہ قرآنی اصطلاح میں ”جہادِ کبیر “ کہلاتا ہے۔اور ایک جہاد صغیر اور وہ تلوار کی جنگ یا اب جنگ کے حالات بدل گئے ، اب بندوق یا ایٹم بم سے ہونے لگ گئی بہر حال مادی ذرائع سے انسانی جان کی حفاظت کے لئے یا لینے کے لئے تیار ہو جانا یہ ہے جہاد صغیر۔۔۔قرآنِ کریم کی آیت ہے کہ اس قرآنِ کریم کو لے کے دنیا میں پھیلو اور اس ہدایت اور شریعت کو پھیلانے کا جہاد کرو، تبلیغ کا جہاد کرو۔“ حضور نے فرمایا کہ جہاد کبیر تو جاری ہے لیکن مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جہادِ صغیر کی شرائط پوری نہیں ہوئیں۔ایک سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ اگر جہادِ صغیر کی شرائط پوری ہوں تو احمدی بھی باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔جماعت احمدیہ کے مخالفین کی طرف سے یہ اعتراض تو بہت کیا جاتا ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ کہا کہ اس وقت ہندوستان کی انگریز حکومت کے خلاف جہاد بالسیف جائز نہیں ہے لیکن یہ اعتراض تو پلٹ کر ان پر آتا تھا کہ اس وقت وہ خود کیا کر رہے تھے۔حضور نے پہلی جنگ عظیم کے دور کے حالات بیان فرمائے کہ اس وقت ترکی کی حکومت جرمنی کی اتحادی بن کے اتحادیوں کے خلاف جنگ کر رہی تھی اور دوسری