دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 431 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 431

431 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مجھے عبور ہے۔اگر کسی صاحب کو عبور ہو کہ وہ آج کے مسائل حل کرنے کے لیے پہلی کتب میں سے مواد نکال دیں تو میں سمجھوں گا کہ وہ ٹھیک ہیں۔جب اس موضوع پر بات چلی تو اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ کوئی اور مثال دی جائے جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے نکتہ بیان کیا ہو اور پہلے علماء نے نہ بیان کیا ہو۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی مثال دی اور اس کی کچھ تفصیلات بیان فرمائیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے وہ نکات بیان فرمائے تھے کو پہلے کسی عالم نے بیان نہیں کئے تھے۔اور اس ضمن میں حضور نے بیان فرمایا کہ کس طرح حضور نے ڈنمارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چینج کو دہرایا تھا کہ عیسائی اپنی مقدس کتب میں وہ خوبیاں نکال کر دکھائیں جو سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں۔پھر اٹارنی جنرل صاحب اس موضوع پر سوال کرتے رہے کہ قرآنِ کریم سے نیا استدلال کوئی غیر نبی بھی کر سکتا ہے۔یقینا تاریخ اسلام میں بہت سے ایسے علماء ربانی گزرے ہیں جنہوں نے قرآن کریم سے استدلال کر کے لوگوں کی ہدایت کا سامان کیا ہے انہیں الہامات بھی ہوتے تھے لیکن یہ خدا کی مرضی ہے کہ کب اس کی حکمتِ کاملہ اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ دنیا کی اصلاح اور دنیا کو قرآنِ کریم کے نور سے منور کرنے کے لئے نبی کو آنا چاہیئے اور یہ کہ کب وہ دین اسلام کی تجدید کے لئے مجددین کو دنیا میں بھیجتا ہے۔یہ ایسی بات نہیں ہے کہ دنیا کی کوئی اسمبلی اور وہ بھی پاکستان کی اسمبلی اس بات کا فیصلہ کرے کہ دنیا میں نبی آنا چاہئے یا مجدد کا ظہور ہونا چاہئے۔- اس کے بعد ایک بار پھر جہاد کے موضوع پر سوالات شروع ہوئے۔چونکہ اٹارنی جنرل صاحب کے سوالات اس بات کو ظاہر کر رہے تھے کہ جہاد کی قرآنی فلاسفی کے بارے میں ان کا ذہن واضح نہیں ہے۔اس بات کو واضح کرنے کے لئے حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا: