دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 430
430 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری whole حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت موسوی کی پابندی کرتے تھے۔یہ سن کر اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر حیران ہو کر دریافت فرمایا:۔" یعنی حضرت عیسی بھی شرعی نبی نہیں تھے ؟“ اس پر حضور نے ایک بار پھر واضح فرمایا کہ حضرت عیسی شرعی نبی نہیں تھے۔اس اجلاس میں ان سوالات اور جوابات کی تکرار ہوتی رہی جن پر پہلے بھی بات ہو چکی تھی۔ایک موقع اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ جہاد کے مسئلہ کو چھوڑ کر وہ کون سا خزانہ تھا جو تیرہ سو سال مسلمانوں کو نہیں ملا تھا اور مرزا صاحب نے سامنے لا کر رکھ دیا؟ پر اول تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف جہاد کے مسئلہ پر ہی مسلمانوں میں رائج غلط خیالات کی اصلاح نہیں فرمائی تھی بلکہ اور بہت سے پہلو تھے جن پر آپ کی مبارک آمد کے ساتھ غلط خیالات کی دھند چھلنے لگی۔بہر حال حضور نے قرآنی آیات پڑھ کر فرمایا کہ قرآن کریم جہاں ایک کھلی کتاب ہے وہاں یہ کتاب مکنون بھی ہے۔پھر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے مختلف پرانے بزرگوں کی مثالیں پڑھ کر سنائیں کہ جن پر ان کے دور کے لوگوں نے اس وجہ سے کفر کے فتوے لگائے کہ آپ وہ باتیں کرتے ہیں جو آپ سے پہلے بزرگوں نے نہیں کیں۔حضور نے فرمایا کہ اس دور کے تمام مسائل کا حل بھی قرآنِ کریم میں موجود ہے اور فرمایا کہ میں اپنی ذات کے متعلق بات کرنا پسند نہیں کرتا لیکن مجبوری ہے اور پھر بیان فرمایا کہ 1973ء کے دورہ یورپ کے دوران میں نے ایک پریس کانفرنس میں ذکر کیا تھا کہ کمیونزم جو حل آج پیش کر رہا ہے اس سے کہیں زیادہ بہتر علاج قرآنِ کریم نے بیان فرمایا ہے۔مزید فرمایا کہ کون سے مخفی خزانے تھے جو اس Age میں جماعتِ احمدیہ کے ذریعہ ظاہر ہوئے۔چنانچہ ان کے مطابق میں یہ کہوں گا کہ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ پہلی ساری کتب پر