دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 429 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 429

429 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ترجمہ : اور وہ خواہش نفس سے کلام نہیں کرتا۔یہ تو محض ایک وہی ہے جو اُتاری جاتی ہے یہ آیات کریمہ پڑھنے کے بعد حضور نے فرمایا ”جو واقعہ میں نبی اکرم صلی اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اور جو ارشاد ہے، وہ نمیدیم اپنے نطق کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی تائید کے مطابق آپ کا وہ ارشاد ہے۔“ حضور کا ارشاد رتو واضح تھا لیکن حسب سابق اٹارنی جنرل صاحب نے پھر وہی بے بنیاد دہرائی اور کہا:۔وو ” اور جو خدا تعالیٰ کا ارشاد مرزا صاحب کو ہوا وہ حدیث سے بلند مرتبہ ہے اس کا کہ نہیں۔“ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا " ہر حدیث صحیح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام سے اس لئے بالا ہے کہ اس کا تعلق محمد رسول اللہ صلی الم سے ہے۔“ جب یہ 66 یہ گفتگو آگے چلی تو اٹارنی جنرل صاحب نے ایک مرحلہ پر کہا کہ مجھے تو ممبرانِ اسمبلی کی طرف سے جو سوال آئے اس کو پیش کرنا پڑتا ہے۔اس اعتراض کے رد کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد ہی کافی ہے آپ فرماتے ہیں: ” ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنی درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں۔“ (97) ــل اس کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والی ٹیم کو اس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کہ وہ ایک موضوع پر سوالات کا سلسلہ تو شروع کر دیتے تھے لیکن اس موضوع کے بارے میں بنیادی معلومات سے بھی بے خبر ہوتے تھے۔اب اٹارنی جنرل صاحب نے امتی نبی اور کسی شریعت کے تابع نبی کے مسئلہ پر ایک مرتبہ پھر سوالات شروع کئے۔جب اپنے جواب میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ on the