دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 428
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 428 آنکھوں سے اس مبارک گروہ کو دیکھ رہے تھے۔ایسے موقع پر صرف اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت ہی تھی جو اپنے مامور کی حفاظت کر رہی تھی ورنہ ایسے خطرناک مواقع پر پولیس کے چند سپاہی بھی کیا کر سکتے ہیں۔مخالف علماء نے مناظرہ کرنے کی بجائے وہاں سے چلے جانا مناسب سمجھا تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ علماء خدا کی قسم کھالیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مادی جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔تو ان علماء نے یہ جرات بھی نہیں کی تھی۔مغرب کے وقفہ کے بعد جب کہ ابھی جماعت کا وفد ہال میں نہیں آیا تھا تو سپیکر اسمبلی اس بات پر اظہار ناراضگی کرتے رہے کہ ممبران اکثر غیر حاضر رہتے ہیں۔سپیکر صاحب نے کہا کہ ممبران نو بجے کے بعد ایک ایک کر کے ہاتھ میں بستہ لے کر کھسکنا شروع ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد جو کارروائی شروع ہوئی تو ایک سوال اس حوالہ سے بھی آیا کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک حدیث کا کیا مقام ہے اور کیا جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات و الہامات کو حدیث سے زیادہ وقعت دیتی ہے اور اس اعتراض کی تمہید یہ باندھی گئی کہ چونکہ آپ کے نزدیک قرآن کریم کی آیات بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہیں اور بانی سلسلہ احمدیہ کے الہامات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اس لئے نعوذ باللہ احمدیوں کے نزدیک ان کا مقام ایک ہے اور اس طرح احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات و ارشادات کو نعوذ باللہ احادیث نبویہ سے افضل سمجھتے ہیں۔یہ صرف ایک بہتان تھا۔جماعت احمدیہ کا پورا لٹریچر اس کی تردید کر رہا ہے۔حضور نے اٹارنی جنرل صاحب کو یہ یاد کرایا قرآنِ کریم کے اس ارشاد کے مطابق جماعت احمدیہ کا عقیدہ تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی علیکم کا ہر ارشاد اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے نتیجہ میں ہی ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم : 5-4)