دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 421
421 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جماعت احمدیہ پر نہیں بلکہ ان جماعتوں پر آتا تھا جو جماعت احمدیہ کی مخالفت میں سب سے پیش پیش تھیں اور اس کے ممبران اس اسمبلی میں بھی موجود تھے۔جماعتِ اسلامی کے ممبران اس اسمبلی میں موجود تھے اور ان کے بانی مودودوی صاحب نے آزادی کے وقت مسلم لیگ کی بھرپور مخالفت کی تھی۔جمعیت علماء اسلام کے ممبران اس اسمبلی میں موجود تھے ان کے بزرگان سیاسی طور پر مسلم لیگ کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ان کے علاوہ نیپ سے وابستہ اراکین اس موقع پر موجود تھے ،یہ سیاسی گروہ بھی پاکستان کے قیام تک مسلم لیگ اور قیام پاکستان کی مخالفت کرتا رہا تھا۔ان تاریخی حقائق کی موجودگی میں جماعت احمدیہ پر یہ اعتراض اُٹھانا مضحکہ خیز تھا۔2۔اگر ایسا ہی تھا کہ جماعت احمد یہ قیام پاکستان کی مخالفت کر رہی تھی تو پھر آزادی سے معاً قبل ہونے والے انتخابات میں ، جس کے نتیجہ میں پاکستان کے بننے یا نہ بننے کا فیصلہ ہونا تھا ، جماعت احمدیہ نے تمام مرکزی مسلم لیگ کو کیوں ووٹ دیئے تھے ؟ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ان انتخابات سے قبل یہ اعلان شائع نشستوں پر فرمایا تھا ا " آئندہ الیکشنوں میں ہر احمدی کو مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہئیے تا انتخابات کے بعد مسلم لیگ بلاخوف تردید کانگرس سے یہ کہ سکے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔الفضل 22 اکتوبر 1945ء ) 3۔اگر جماعت احمدیہ قیام پاکستان کی مخالفت کر رہی تھی تو پنجاب باؤنڈری کمیشن کے روبرو اس نے اپنا یہ تحریری موقف کیوں جمع کرایا تھا کہ احمدی مسلمان قیام پاکستان کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔اب اس باؤنڈری کمیشن کا تمام ریکارڈ شائع ہو چکا ہے۔(جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ میمورنڈم کتاب The