دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 420 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 420

420 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا:۔نہیں میں نے تو صرف یہ عرض کی ہے کہ میں نے اپنی طرف سے نہایت دیانتداری کے ساتھ خود ہی اس بات کو تسلیم کر لیا تھا کہ ہم تلاش کریں گے لیکن جس کا بدلہ مجھے یہ دیا گیا کہ بڑا نا مناسب اعتراض مجھ پر کر دیا گیا۔۔۔تو اس واسطے میں صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ جو بوجھ آپ کا ہے وہ آپ اُٹھائیں اور جو ہمارا ہے وہ ہم اُٹھانے کی کوشش کریں گے۔" اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ میں آپ کی دیانت پر شک نہیں کرتا اور پھر کہا کہ کل جو اعتراض اُٹھایا گیا تھا وہ Clarify ہو گیا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے واضح کیا کہ انہیں یہ غلط فہمی کس طرح ہوئی تھی۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا : جب ایک سوال کیا جاتا ہے تو بعض دفعہ وفد کے کسی ممبر کے ذہن میں اس کا پس منظر آجاتا ہے اور وہ دورانِ گفتگو حضور کی خدمت میں اس بارے میں عرض کر دیتا ہے۔اب اٹارنی جنرل صاحب اپنی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جماعت احمدیہ نے خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے اور اپنی دانست میں اس کی مضبوط دلیل یہ پیش کی کہ جب برِ صغیر آزاد ہو رہا تھا اور برصغیر کے مسلمان مسلم لیگ کے ساتھ مل کر پاکستان کے قیام کے لئے کوششیں کر رہے تھے تو احمدیوں نے ان کی مخالفت کی تھی اور ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔پہلی بات تو یہ کہ ہم پہلے ہی حوالے درج کر چکے ہیں کہ یہ الزام غلط تھا لیکن اس ضمن میں مندرجہ ذیل حقائق سامنے لانے ضروری ہیں۔1۔اگر یہ فرض کیا جائے کہ جس گروہ نے آزادی کے وقت مسلم لیگ کا ساتھ نہیں دیا تھا ، اس نے اپنے آپ کو خود امتِ مسلمہ سے علیحدہ رکھا ہے اور اب اسے قانونی طور پر غیر مسلم قرار دے دینا چاہئیے تو یہ الزام