دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 413 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 413

413 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری لیکن جب میں یہ کہتا ہوں کہ میرے علم میں نہیں ہے تو آپ کو یقین رکھنا چاہئے کہ میرے علم میں نہیں ہے۔66 پاکستان کی قابل قومی اسمبلی کے قابل اراکین کی اس وقت کیا سوچ تھی ، اٹارنی جنرل صاحب نے ان کے متعلق فرمایا:۔وو اسمبلی ممبران کو یہ شک ہوتا ہے کہ جو جواب آپ کے حق میں ہوتا ہے،اس کے حوالے آپ ضرور لے 66 آتے ہیں۔جو جواب آپ کے حق میں نہیں ہوتا ، آپ اس کو ٹالتے ہیں۔۔۔“ اگر اسمبلی ممبران کا یہ خیال تھا تو نہایت ہی نامعقول خیال تھا۔اگر کوئی ممبر جماعت احمدیہ پر اعتراض کر نے کے لئے کوئی حوالہ پیش کر رہا تھا تو یہ اس کا فرض تھا کہ اس کا ثبوت مہیا کرے ، جماعت احمدیہ کے وفد کا یہ کام نہیں تھا کہ اس کو ثبوت مہیا کرے۔اگر الفضل کے اس شمارے کا حوالہ دیا جائے گا جو کبھی شائع ہی نہیں ہوا تھا یا اس کتاب کی عبارت پیش کی جائے گی جو کہ کبھی لکھی ہی نہیں گئی تھی۔اگر ایسی عبارت پڑھی جائے گی جو اس صفحے پر موجود ہی نہیں جس کا حوالہ دیا جا رہا ، اگر ایک کتاب کے سولہ صفحے ہیں اور اس کے صفحہ نمبر 193 کا حوالہ دیا جائے گا۔تو اس صورت میں جماعت احمدیہ کا وفد یہ حوالہ کس طرح ڈھونڈے گا؟ بہر حال یہ اس کا اثر تھا یا کوئی اور وجہ تھی ، سپیکر صاحب نے اس اجلاس کے دوران اٹارنی جنرل صاحب کو اصرار سے یہ کہا کہ وہ اس کارروائی کو اب مختصر کرنے کی کوشش کریں۔اس پس منظر میں سپیکر صاحب اٹارنی جنرل صاحب کی ہمدردی میں اس سے زیادہ اور کیا کر سکتے تھے۔اٹارنی جنرل صاحب یا ان کی ٹیم کی ذہنی کیفیت کچھ بھی تھی لیکن جب ملک کی قومی اسمبلی میں ایک غلط حوالہ پیش کر کے جماعت احمدیہ پر غلط اعتراض کیا جا رہا ہو تو جماعت احمدیہ کے وفد کا یہ فرض تھا کہ وہ ان