دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 414
414 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کا مکمل جواب دے۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک احمدی کی کتاب کا حوالہ دے کر اعتراض اُٹھایا تھا کہ اس میں جو درود دیا گیا ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی شامل ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کے تمام ایڈیشن دیکھ لئے ہیں۔درود کی جو عبارت یہاں پڑھ کر سنائی گئی تھی وہ اس کے کسی ایڈیشن میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ابھی اٹارنی جنرل صاحب اس تازہ صدمہ سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ انہیں ایک اور صدمہ سے دوچار ہونا پڑا۔بیٹی بختیار صاحب نے ایک کتاب کے انگریزی ترجمہ کا حوالہ پیش کیا تھا۔حضور نے اس کا اصل اردو کا حوالہ پیش کیا تو یہ اعتراض خود بخود ہی باطل ہو گیا۔اٹارنی جنرل صاحب نے ترجمہ پر اصرار کرنا چاہا تو سپیکر صاحب نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی When the original is available translation is of no use۔جب اصل کتاب موجود ہے تو پھر ترجمہ کی کوئی اہمیت نہیں۔سوالات کرنے والی ٹیم اپنی طرف سے نئی تیاری کے ساتھ کارروائی میں شامل ہونے آئی تھی۔لیکن وقفہ کے بعد پہلے دن انہیں جس ہزیمت سے دو چار ہونا پڑا وہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔