دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 412
412 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جنرل صاحب نے ان کو حضور کے سامنے رکھا تو جماعت نے تحقیق شروع کی تو معلوم ہوا کہ بہت سے پیش کردہ حوالے تو سرے سے غلط تھے یا پوری عبارت نہیں پیش کی گئی تھی۔اب کوئی بھی شخص جماعت کے پورے لٹریچر کا ، تمام اخبارات کا ، تمام حوالوں کا حافظ نہیں ہو سکتا۔یہ تو حوالہ پیش کرنے والے کا فرض ہوتا ہے کہ وہ صحیح صفحہ ، صحیح عبارت ، صحیح ایڈیشن پیش کرے اور اٹارنی جنرل صاحب بلکہ پوری قومی اسمبلی اس معاملہ میں مکمل طور پر ناکام ہوئی تھی تو اس کا الزام جماعت کے وفد کو دینا بالکل خلاف عقل تھا اور جہاں تک بُرے Inference کا تعلق ہے تو یہ اس وقت ہونا چاہئے تھا جب کہ خود اٹارنی جنرل صاحب کے پیش کردہ حوالے غلط ثابت ہو رہے تھے اور رہی یہ بات کہ گزشتہ نوے برس کے دوران دنیا کے بیسیوں ممالک میں جماعت کا جو جریدہ اور جو کتاب چھپی تھی یا کسی احمدی شاعر نے اگر کوئی شعر کہا تھا یا کسی جماعت نے کوئی قرارداد پاس کی تھی ، یہ تمام باتیں خلیفہ وقت کے ذہن میں ہر وقت مستحضر ہونی چاہئیں، اٹارنی جنرل صاحب کی اس بات کو کوئی بھی صاحب عقل تسلیم نہیں کر سکتا۔زیادہ سے زیادہ یہ حسن ظن کیا جا سکتا ہے کہ اس کارروائی کے دوران ان کو جو ناکامی ہو رہی تھی اس نے وقتی طور پر ان کی قوت فیصلہ کو مفلوج کر دیا تھا۔پہلے اٹارنی جنرل صاحب ے یہ سوال ہونا چاہیے تھا کہ انہوں نے خود سپیکر صاحب سے کہا کہ ہمارے سامنے حوالے موجود ہیں اور پھر بھی وہ غلط حوالے پڑھتے رہے۔کیا انہیں اردو پڑھنی نہیں آتی تھی یا پھر وہ عمدا غلط عبارات پڑھ رہے تھے۔حضور نے اس کا یہ اصولی جواب دیا کہ سے وو ” یہ Inference جو ہے میرے نزدیک درست نہیں ہے۔اس لئے میرا یہ دعویٰ نہیں کہ لاکھوں صفحوں کی کتب۔۔۔جن کی اشاعت تقریبا نوے سال پر پھیلی ہوئی ہے، میں اس کا حافظ ہوں اور ہر حوالہ مجھے یاد ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا:۔