دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 37 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 37

37 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کشمیر اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے خلاف قرار داد آئین میں شامل کئے گئے حلف ناموں سے یہ ظاہر ہو جاتا تھا کہ سیاستدانوں کا ایک طبقہ، آئین اور قانون میں ایسی تبدیلیاں کرنا چاہتا ہے جن کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ اپنی دانست میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے بلکہ احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کی جائے۔اور چونکہ الیکشن میں ان جماعتوں کو مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جن کو عرف عام میں مذہبی جماعتیں کہا جاتا ہے ، اس لئے انہیں نئی سیاسی زندگی پانے کے لئے کسی ایسے مسئلہ کو چھیڑنے کی ضرورت تھی جس کی آڑ میں وہ اپنے سیاسی مردے میں کچھ جان پید ا کر سکیں۔ان پارٹیوں کو صرف اپنے سیاسی مفادات سے غرض ہوتی ہے۔ان حرکات سے ملک و قوم کو کتنا نقصان پہنچے گا، یہ لوگ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ابھی پاکستان کے آئین کو اسمبلی سے منظور ہوئے ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس سازش کے آثار مزید واضح ہو کر نظر آنے لگے۔اس مرتبہ یہ فتنہ کشمیر اسمبلی میں سر اُٹھا رہا تھا۔اس وقت سر دار عبد القیوم صاحب کشمیر کے صدر تھے اور سردار قیوم صاحب ایک عرصہ سے جماعت احمدیہ کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے۔کشمیر کی اسمبلی 25 اراکین پر مشتمل تھی۔ان میں سے 11 اراکین کا تعلق حزب اختلاف سے تھا اور 29 / اپریل 1973ء کو ان اراکین نے کسی وجہ سے اسمبلی کا بائیکاٹ کیا ہو ا تھا۔اس بائیکاٹ کے دوران حکومتی گروہ کے ایک رکن اسمبلی میجر ایوب صاحب نے ایک قرارداد پیش کی جس کے متعلق روزنامہ مشرق نے یہ خبر شائع کی:۔آزاد کشمیر اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں حکومت آزاد کشمیر سے سفارش کی گئی ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ریاست میں جو قادیانی رہائش پذیر ہیں ان کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے اور انہیں اقلیت قرار دینے کے بعد ان کی تعداد کے مطابق مختلف شعبوں میں ان کی نمائندگی کا یقین کرایا جائے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں قادیانیت کی تبلیغ ممنوع ہو گی۔یہ قرار دادا اسمبلی کے رکن میجر محمد ایوب نے پیش کی تھی۔قرارداد کی ایک شق ایوان نے ہفتہ کے روز بحث کے بعد ایک ترمیم کے ذریعہ خارج کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا جائے۔میجر ایوب نے قرارداد پیش کرتے ہوئے آئین پاکستان میں مندرج صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کا حلف نامہ پڑھ کر