دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 359 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 359

359 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مطابق نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام آنحضرت صلی الی یکم سے زیادہ بلند ہے۔یہ بھی ایک پرانا اعتراض ہے اور اس کا جواب جماعت کے لٹریچر میں بار ہا بڑی تفصیل سے آچکا ہے۔لیکن یہ بات قابل غور ہے صلى ال عوام سے کہ وہ یہ اعتراض اُٹھانا چاہتے تھے کہ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام آنحضرت زیادہ سمجھتی ہے۔اور اس کی تائید میں حضرت مسیح موعود کا کوئی الہام یا تحریر نہیں پیش کی گئی خلفاء میں سے کسی کی تحریر یا قول پیش نہیں کر سکے۔پیش کیا بھی تو کیا ظہور الدین اکمل صاحب کا ایک شعر۔اب اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ اسلام کے عقائد کیا ہیں تو کیا قرونِ اولیٰ کے کسی شاعر کا شعر پیش کیا جائے گا یا یہ مناسب ہو گا کہ کسی قرآنی آیت یا حدیث شریف کا حوالہ پیش کیا جائے۔اس خلاف عقل طرزِ استدلال کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے اس اعتراض کی تائید میں حضرت مسیح موعود کی کوئی تحریر یا الہام ڈھونڈ ہی نہیں سکتے تھے۔وہاں تو ہر جگہ اس بات کا اعلان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیثیت آنحضرت صلی الی یوم کے ایک روحانی فرزند اور خادم کی ہے۔اس دن کی کارروائی کے اختتام پر جو کچھ ہوا اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک جو جماعت احمدیہ کی طرف سے مختلف فرقوں کے علماء کے حوالے پیش کئے گئے تھے کہ کس طرح مختلف فرقوں نے دوسرے فرقوں کو کافر کہا ہے، اس سے مولوی حضرات کے کیمپ میں کافی بے چینی پیدا ہوئی تھی اور ایسا ہونا لازمی تھا کیونکہ ان کی ایک کوشش تھی کہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ احمدی تو غیر احمدی مسلمانوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے اور اس لئے اب ہمیں یہ حق ہے کہ ہم آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیں لیکن اب تک یہ ہوا تھا کہ کثرت سے مختلف فرقوں کے علماء کے فتاویٰ پیش کئے گئے تھے جن میں انہوں نے ایک دوسرے کو کافر قرار دیا تھا تو عقل یہ تقاضا کرتی تھی کہ پھر تو ان تمام فرقوں کو غیر مسلم قرار دے دینا چاہئے۔چنانچہ اس